The news is by your side.

Advertisement

قومی اسمبلی کا اجلاس: اسپیکر کا گھیراؤ، پی ٹی آئی نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پی ٹی آئی ارکان نے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑی دیں، اسپیکر کی نشست کا گھیراؤ کیا جس پر اسپیکرایازصادق نے اجلاس پندرہ منٹ کےلیے ملتوی کردیا اور نشست چھوڑ گئے، خورشید شاہ نے بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت جاری رہا، اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ خورشید شاہ کی تقریر کے بعد اسپیکر ایاز صادق کی جانب سے حکومتی بینچ سے خواجہ سعد رفیق کو پوائنٹ آف آرڈر پر تقریر کرنے کی اجازت دینے پر اپوزیشن اراکین نے شدید احتجاج شروع کردیا، پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف نعرے بازی کی گئی، اراکین نے اسپیکر کے ڈائس کے سامنے جا کر ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں جس کے باعث خواجہ سعد رفیق کو اپنی تقریر روکنا پڑی۔

اسپیکر ایازصادق کا کہنا تھا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر پہلے اپوزیشن لیڈر نے بات اب حکومتی رکن کی باری ہے اس کے بعد آپ کو بھی موقع دیا جائے گا لیکن مشتعل پی ٹی آئی کے اراکین نہ مانے اور مطالبہ کیا کہ پہلے پوری اپوزیشن کو بات کرنے دی جائے بعدازاں حکومتی رکن کو ایک ہی بار بولنے کا موقع دیا جائے ہر تنقید کے بعد نہیں جواب میں اسپیکر اپنے موقف پر قائم رہے کہ پہلے سعد رفیق بات کریں گے بعدازاں پی ٹی آئی ارکان جس پر تنازع بڑھ گیا۔

خواجہ سعد رفیق کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی ارکان نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑی دیں، اسپیکر کی نشست کا گھیراؤ کیا جس پر اسپیکرایازصادق نے اجلاس پندرہ منٹ کےلیے ملتوی کردیا اور نشست چھوڑ گئے۔

قبل ازیں اپنی تقریر میں  قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور پیپلز پارٹی کے مر کزی رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ پر اس کے اندر سے ہی حملہ ہو رہا ہے، چیف جسٹس آف پاکستان کو کیوں متنازع بنایا جا رہا ہے، وہ پورے پاکستان کے چیف جسٹس ہیں، آج پاکستان کا وزیر اعظم ایک قطری شہزادے کے پیچھے چھپ رہا ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ جھوٹ ایک لعنت ہے، اس سے قومیں تباہ ہوجاتی ہیں لیکن وزیراعظم آج اس ایوان میں آکر جھوٹ بولتے ہیں،وزیراعظم کو یہ خیال ہونا چاہیے کہ وہ پارلیمنٹ کی پیداوار ہیں، پارلیمنٹ نے ہی ان کی اہمیت کو تسلیم کروایا،  جھوٹ چاہے خورشید شاہ بولے یا کوئی اور یہ مقدس ایوان ہے یہاں جھوٹ بولنے سے اس ایوان کا استحقاق مجروح ہورہا ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کا رتبہ سب سے زیادہ ہوتا ہے، ایوان عدلیہ اور عدالت سے زیادہ مقدس ہے، اس ایوان کو بچانے کے لیے اپوزیشن نے ہر دور میں اہم کردار ادا کیا۔

مزید پڑھیں : خورشید شاہ نے نواز شریف کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرادی

خورشید شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ ایک سپریم ادارہ ہے یہاں پر کہے گئے ایک ایک لفظ کی اہمیت ہوتی ہے، ایوان بڑی قربانیوں اور مشکلوں سے حاصل ہواہے، یہی ایوان آئین بناتا ہے ادارے اس سے جنم لیتے ہیں ،ہماری پارٹی نے اس ایوا ن کے لیے ڈنڈے کھائے جیل میں گئے، ضرورت پڑنے پر گولیاں بھی کھائیں۔

خورشید شاہ کی جانب سے پاناما کیس پر اظہار خیال کیا گیا تو اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے خورشید شاہ کو پاناما کیس کے معاملے پر بات کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت اور کہا کہ پاناما کا معاملہ عدالت میں ہے۔ اس پر اپوزیشن لیڈر نے کہا پارلیمنٹ سپریم ہے جو عدالت سے زیادہ مقدس ہے۔

خورشید شاہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم کا پارلیمنٹ میں اپنی تقریر کو سیاسی قرار دینا افسوس ناک ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کیا سیاست جھوٹ ہے؟۔ سیاست خدمت اور عبادت ہے جبکہ سیاست کو جھوٹ سمجھنے والے آمریت کی سوچ رکھتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں