The news is by your side.

Advertisement

سید محمد تقی: ایک عظیم فلسفی اور دانش ور

سید محمد تقی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ پاکستان کی انتہائی قابل، ذہین اور باصلاحیت شخصیات میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ وہ ایک فلسفی، دانش ور اور مصنف کی حیثیت سے عالمی سطح پر بھی پہچانے جاتے ہیں، تخلیق اور تصنیف کے ساتھ صحافت بھی ان کا ایک حوالہ ہے۔

اپنی زندگی بھر کے تدبر اورتحقیق کا خلاصہ انھوں نے اپنی کتاب “تاریخ اور کائنات، میرا نظریہ” میں پیش کیا جسے بہت شہرت ملی۔ اس تصنیف میں انھوں نے اپنی فلسفیانہ اور دانش ورانہ سوچ سے ایک جامع اور مربوط نظام پیش کیا جسے بہت پزیرائی ملی۔

سید محمد تقی نے 2 مئی 1917 کو ہندوستان کے مردم خیز خطے امروہہ میں جنم لیا۔ ان کا تعلق جس خاندان سے تھا، اس میں علم و دانش، قابلیت اور صلاحیت کا شہرہ تھا اور اسی ماحول میں‌ سید محمد تقی کی فکر اور نظریہ نے خود کو توانا و تاب دار کیا۔ رئیس امروہوی اور جون ایلیا کے بھائی تھے۔

سید محمد تقی کی دیگر تصانیف میں پراسرار کائنات، منطق، فلسفہ اور تاریخ، نہج البلاغہ کا تصور الوہیت اور روح اور فلسفہ شامل ہیں۔ کارل مارکس کی مشہور تصنیف داس کیپٹال کو سید محمد تقی نے اردو میں منتقل کیا تھا۔

اپنے وقت کے اس عظیم تخلیق کار اور فلسفی نے 25 جون 1999 کو کراچی میں انتقال کیا اور سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں