The news is by your side.

Advertisement

سید مراد علی شاہ کی نئی صوبائی کابینہ کے اراکین کے ساتھ بلاول بھٹو سے ملاقات

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنی نئی صوبائی کابینہ کے اراکین کے ساتھ بلاول ہاوٴس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی اور قیادت کے اعتماد اور عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے زیادہ سے زیادہ کارکردگی دکھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ اور ان کی نئی کابینہ کے اراکین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور پارٹی کسی بھی وزیر کی غفلت کو برداشت نہیں کرے گی،تمام وسائل کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے عوام کے لیے کام کریں اور ان کی تکالیف کو کم کریں،صوبے میں ترقی اور خوشحالی کی رفتار کو آگے بڑہاتے ہوئے سابقہ کابینہ کے نامکمل کاموں اور منصوبوں کو مکمل کیا جائے۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے نئی کابینہ کے اراکین پر زور دیا کہ 18ترمیم کے بعد صوبے کو منتقل ہونے والے محکموں اور اختیارات پر عملدرآمد کے لیے مضبوط ہوم ورک تیار کیا جائے،وفاقی قابل تقسیم پول سے منصفانہ شیئر لیا جائے،عام آدمی پر بوجھ نہ ڈالنے کو اولیت دیتے ہوئے صوبائی آمدنی کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے،بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ امن امان، تعلیم اور صحت کے محکموں کے لیے زیادہ توجہ درکار ہے،کیونکہ یہ محکمے عام آدمی کی زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں،انہوں نے کہا کہ نو منتخب بلدیاتی اداروں کا اجتماعی دانش بھی شہری سہولیات کی بحالی کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

قبل ازیں بلاول بھٹو زرداری نے اراکین سندھ کابینہ کو مبارکباد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ وہ صوبے اور عوام کی بہتری کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی کی پالیسیوں پر عملدرآمد کے لیے اپنی ممکنہ کوششیں ضرور لیں گے،اس موقع پر آج لاڑکانہ میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کی گئی، چیئرمین پیپلزپارٹی، وزیراعلیٰ سندھ اور اراکین کابینہ نے شہید اہلکار کے ایصال کے لیے دعا بھی کی۔

بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ کو ہدایت کی کہ لاڑکانہ بم دھماکے کے زخمیوں کے بہتر علاج کا انتظام کیاجائے،ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ساتھ نئی کابینہ کے اراکین صوبائی وزراء مخدوم جمیل الزماں، نثار احمد کھڑو، جام مہتاب ڈہر،سکندر میندھرو، جام خان شورو،، شمیم ممتاز، سہیل انور سیال، سید سردار شاہ، مکیش چاولا،صوبائی مشیران مولا بخش چانڈیو، سینیٹر سعید غنی، اصغر جونیجو، مرتضیٰ وہاب، معاونین خصوصی ڈاکٹر کھٹو مل، ڈاکٹر سکندر شورو،ارم خالداور اور سید غلام شاہ جیلانی شامل تھے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں