site
stats
انٹرٹینمںٹ

ہالی ووڈ کے ریمبو پر بھی جنسی زیادتی کا الزام، اداکار کی تردید

ہالی ووڈ کے پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن پر ایک اداکارہ کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا معاملہ سامنے آتے ہی پنڈورا باکس کھل گیا اور ایک کے بعد ایک نام سامنے آنے لگے جنہوں نے اداکارؤں کے کیریئر کے ابتدائی مرحلے میں انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا۔

اس فہرست میں اب ہالی ووڈ کے ریمبو یعنی سلویسٹر اسٹالون کا نام بھی شامل ہوگیا جن پر ایک خاتون نے الزام لگایا ہے کہ سنہ 1986 میں اسٹالون نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔

تاہم اداکار نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے۔

برطانوی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سنہ 1986 میں جب اسٹالون 40 برس کے تھے اس وقت ان کی ملاقات مذکورہ خاتون سے ہوئی۔ اس وقت اسٹالون اپنی فلم اوور دا ٹاپ کی شوٹنگ میں مصروف تھے۔ خاتون نے ایک مداح کے طور پر ان سے ملاقات کی۔

خاتون کے مطابق اس وقت ان کی عمر 16 برس جبکہ معروف اداکار سلویسٹر اسٹالون کی عمر 40 برس تھی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ دوسری بار ایک اور موقع پر ہماری ملاقات ہوئی تو اسٹالون کے باڈی گارڈ نے انہیں ہوٹل کے ایک کمرے کی چابی دیتے ہوئے ان سے اوپر جانے کا کہا۔

خاتون نے الزام عائد کیا کہ وہاں پر نہ صرف خود اسٹالون بلکہ ان کے باڈی گارڈ نے بھی ان سے جنسی زیادتی کی اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس معاملے کو منظر عام پر لے کر آئی ہیں۔

اداکار اور ان کا باڈی گارڈ – سنہ 1986

ان کا کہنا ہے کہ بعد ازاں انہیں اداکار کی جانب سے دھمکیاں بھی موصول ہوئیں کہ وہ اور ان کے باڈی گارڈ دونوں شادی شدہ ہیں لہٰذا اگر خاتون نے یہ بات کسی کو بتائی تو وہ اس کے ساتھ بہت برا سلوک کریں گے۔

مزید پڑھیں: اسٹالون کی اسکیپ پلان 2 بنانے کا فیصلہ

دوسری جانب اسٹالون کی ترجمان مشل بگا نے برطانوی ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے اسے ایک مضحکہ خیز کہانی قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’اس کہانے کے چھپنے سے قبل کوئی بھی اس کہانی سے واقف نہیں تھا حتیٰ کہ خود سلویسٹر اسٹالون بھی نہیں‘۔

ادھر خاتون نے کسی بھی قسم کی پولیس رپورٹ درج کروانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو صرف باڈی گارڈ کے ملوث ہونے کی وجہ سے منظر عام پر لائی ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے نہایت توہین محسوس کی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top