شام میں جاری خانہ جنگی پرہونے والے مذاکرات میں اہم پیش رفت -
The news is by your side.

Advertisement

شام میں جاری خانہ جنگی پرہونے والے مذاکرات میں اہم پیش رفت

ویانا: ایران نے شام میں جاری تنازعے کے حل کے لئے چھ مہینے ٹرانسیشن پیریڈ کے فارمولے کا پیش کردیا جس میں انتخابات بھی شامل ہیں جو کہ شامی صدربشارالاسد کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے تاہم اسد کے مخالفین نے اس منصوبے کو مسترد کردیاہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کے مخالف ممالک کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ فارمولہ بشارالاسد کو حکومت میں رکھنے کے لئے ہے کیونکہ اگر انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لئے دیگر اقدامات نہیں کئے گئے تو وہ گزشتہ سال کی طرح ہونے والے انتخابات کی طرح یہ الیکشن بھی آسانی سی جیت جائیں گے۔

واضح رہے کہ شام میں چارسال سے جاری خانہ جنگی کے دوران روس کی جنگ میں شرکت سے پہلی بار معاملات بشارالاسد حق میں آئیں ہیں اور خانہ جنگی کے سدباب کے لئے منعقد کئے جانے والی کسی مذاکرات میں ایران نے پہلی بار شرکت کی ہے۔

اس موقع پر ایران کےنائب وزیرخارجہ عامرعبدالہیان نے کہا ہے کہ ایران بشار الاسد کو ہمیشہ اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتا تاہم ہماری کوشش یہ ہے کہ مغربی طاقتیں یہ سمجھیں کہ بزور قوت اسد کو اقتدار سے ہٹانا ممکن نہیں ہے۔

دوسری جانب مڈل ایسٹ سے تعلق رکھنے والے ایک نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا مقصد سمجھوتے کرنا ہے اور ایران اس بات پر سمجھوتا کرنے کے لئے تیار ہے کہ بشار الاسد آئندہ چھ ماہ تک اقتدار میں رہیں اور اس کے بعد شام کے عوام اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کریں۔

دوسری جانب مغربی طاقتوں کے حمایت یافتہ شام کے اپوزیشن لیڈر جارج صابرہ کا کہنا تھا کہ شام کی موجودہ حالات میں انتخابات کا انعقاد دیوانے کا خواب ہے اور یہ ایران کی ایک چال ہے۔

واضح رہے کہ شام کی صورتحال پر ویانا میں مذاکرات جاری ہیں جس میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری، ایران سعودی عرب، مصر، روس اور ترکی کے نمائندے شریک ہیں۔

ویانا میں شام کے مسئلے پر ہونے والے بین الاقوامی مذاکرات میں بات کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ایران کو شام کا تنازع حل کرنے کے لیے بشار الاسد کی اقتدار سے علیحدگی کو قبول کرنا ہوگا۔

اس موقع پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ شام کے تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں ایران کی شمولیت سے کافی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

انھوں نے عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے رویوں میں لچک دکھائیں اور تنازعے کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔

دوسری جانب ایک عرب ویب سائٹ نے ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین عبد اللھیان کے ایک ٹی وی انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے شام میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تو کئی بار بات کی ہے، مگر ہم ایسی کسی بات کا حصہ نہیں بنیں گے جس میں صدر بشار الاسد کے سیاسی مستقبل پر کوئی مک مکا کیا جا رہا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ دشمن بشارالاسد کو شام کی سیاست سے ’مائنس‘ کرنا چاہتا ہے، لیکن ویانا مذاکرات میں بشارالاسد کے سیاسی مستقبل پر بات چیت ’سرخ لکیر‘ سمجھی جائے گی۔

دو روز قبل سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر کا پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ ویانا مذاکرات میں سعودی عرب کی شرکت کا مقصد شامی حکومت کے حامی ممالک روس اور ایران کو امن معاہدے کے لیے رضامند کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ شام کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل نکالا جائے اور مذاکرات کا مقصد اس حوالے سے ایران اور روس کے ارادوں کو جاننا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی شام کے بحران کے حل کے لیے ویانا اور جنیوا میں متعدد بار عالمی طاقتیں سر جوڑ کر بیٹھتی رہی ہیں مگر آج تک کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

واضح رہے کہ شام میں تقریباً چار سال قبل بشار الاسد اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث خانہ جنگی کا آغاز ہوا تھا۔

ایک ماہ قبل بشار الاسد کی درخواست پر روس نے بھی شام میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا جس پر امریکا کی جانب سے اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں