The news is by your side.

Advertisement

ایٹمی تنصیبات کی تعمیر میں ایران بشار حکومت کی مدد کے لیے سرگرم

واشنگٹن: امریکی جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ ایٹمی تنصیبات کی تعمیر میں ایران بشار حکومت کی مدد کے لیے سرگرم ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ ایران 2007 میں اسرائیل کے ہاتھوں تباہ ہونے والی شامی ایٹمی تنصیبات کی تعمیر نو کے لیے بشار حکومت کی مدد کر سکتا ہے، اس اقدام کا مقصد جوہری ہتھیاروں کی تیاری ہے جو تل ابیب کے خلاف منہ توڑ جواب دینا ممکن بنا سکے۔

امریکی جریدے کے مطابق ایران اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں شام کو ہراول مقام میں تبدیل کر دیا جائے، لہذا دمشق کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کی فراہمی کے مقابل تہران شام کے جوہری پروگرام کو ترقی دینے کے لیے بشار حکومت کی مدد کر سکتا ہے۔

جریدے کی رپورٹ میں توجہ دلائی گئی کہ سال 2007 میں شام کے شمال مشرقی شہر دیر الزور کے قریب جوہری تنصیبات پر اسرائیلی فضائے حملے میں ممکنہ طور پر اس ٹکنالوجی اور تجربے کو تباہ نہیں کیا جا سکا جو کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے ضروری ہیں۔ لہذا غالب گمان ہے کہ دمشق ان تنصیبات کی تعمیر نو کے لیے کوشاں ہے۔

امریکی جریدے کے مطابق شام اپنی جوہری تنصیبات کی بحالی کے لیے بیرونی مدد طلب کر سکتا ہے۔ یہ مدد ایران یا شمالی کوریا کی جانب سے آ سکتی ہے جو دونوں ہی شامی حکومت کے حلیف ہیں۔

ایران نے شہر قم میں فردو ایٹمی پلانٹ پر میزائل نصب کردیے

جریدے کے نزدیک ہو سکتا ہے کہ ایران نے اسرائیل کے خلاف ممکنہ مقابلے کے واسطے کیمیائی ہتھیاروں کے حصول کے سلسلے میں بشار حکومت سے مدد طلب کی ہویہ امکان بھی ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب اور اس کی لبنانی حلیف حزب اللہ ملیشیا پہلے ہی شامی حکومت سے کیمیائی ہتھیار حاصل کر چکے ہوں۔

جریدے نے امریکی عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ 2012 کے بعد سے بشار حکومت اور داعش تنظیم کی جانب سے 300 سے زیادہ مرتبہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں