The news is by your side.

Advertisement

شام:ایرانی فوجی اڈے پر اسرائیل کا فضائی حملہ، 9 غیرملکی فوجی جاں بحق

دمشق : اسرائیلی افواج کی جانب سے شام کے شہر قصویٰ میں قائم ایرانی فوجی اڈے پر میزائل حملے کیے گئے ہیں، فضائی حملوں میں 9 غیر ملکی جنگوؤں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مشرق وسطیٰ کے اہم خطے شام کے سرکاری نشریاتی اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ روز دارالحکومت دمشق میں صیہونی ریاست اسرائیل کی دفاعی افواج کی جانب سے فوجی مرکز پرمیزائل حملے کیے گئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ شام کے فضائی دفاعی سسٹم نے منگل کے روز شامی شہر قصویٰ کے میں اسرائیل کی جانب سے داغے گئے دو میزائلوں کو تباہ کردیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ میزائل حملوں میں کسی کے زخمی یا جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں، البتہ مانیٹرنگ گروپ کا کہنا ہے کہ شامی صدر بشار الااسد کی حامی جنگجؤ گروپس کے 9 حملے میں جاں بحق ہوئے ہیں جس میں ایرانی حمایت یافتہ جنگجو بھی شامل ہیں۔

شامی خبر رساں اداروں کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی منگل کے روز ہی افواج کے بیس کیمپ پر میزائل حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں تھی۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق شامی صدر بشار الااسد کی حمایت میں لڑنے والے گروپ کے ایک کمانڈر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ گذشتہ روز داغے گئے میزائلوں کا مقصد شام کے فوجی مرکز کو نشانہ بنانا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ کی انسانی حقوق کی تنظیم سیرئین آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں میں شامی افواج کے اسلح ڈپو کو ہدف بنایا گیا تھا۔

برطانوی انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری کا کہنا تھا کہ حالیہ حملوں میں ایران کی سپاہ پاسداران اور شیعہ جنگجو گروپ کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ شامی حکومت کی جانب سے اسرائیلی افواج پر لگائے گئے الزامات کا صیہونی حکام نے کوئی جواب نہیں دیا ہے، البتہ اسرائیل نے شام میں ایرانی افواج کی موجوگی کو اسرائیل کے خلاف مورچہ بندی کہا تھا۔

واضح رہے کہ ایرانی حکومت گذشتہ سات برس سے جاری شام کی خانہ جنگی میں بشار الااسد کی حکومت کا ساتھ دے رہی ہے، اور شامی حکومت کی حمایت کے لیے ہزاروں فوجی اہکار اور مشیر تاحال شام میں ہی موجود ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کا خیال ہے کہ اسرائیل نے منگل کے روز جس جگہ میزائل حملے کیے ہیں ان مقامات پر ایران نے فوجی چھاونیاں قائم کررکھی تھی۔

یاد رہے کہ سنہ 2017 میں برطانوی خفیہ اداروں نے غیر ملکی خبر رساں اداروں کو بتایا تھا کہ قصویٰ میں ایرانی افواج نے فوجی اڈا بنارکھا ہے جسے شامی افواج استعمال کررہی ہے۔

شامی شہر قصویٰ میں گذشتہ روز ہونے والے حملے کے رد عمل میں ایران نے کہا ہے کہ اسرائیل کے لیے شام میں قائم کیے گئے فوجی اڈوں پر حملے کا انتقام ضرور لے گا۔

خیال رہے کہ ایران اور صیہونی ریاست اسرائیل کے درمیان کشیدگی اس وقت اضافہ ہوا جب اسرائیلی حکام نے الزام عائد کیا کہ شام کے پہاڑی سلسلے گولان میں ایران کی جانب سے غیر معمولی آمد و رفت کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گولان کی پہاڑیوں پر عرب اسرائیل جنگ کے بعد سے اسرائیل کا قبضہ ہے، جس کے باعث صیہونی افواج نے مذکورہ علاقے کو ریڈزون بنایا ہوا ہے اور وہاں بارودی سرنگیں بھی بچائی ہوئی ہیں۔

اسرائیلی افواج کے ترجمان جوناتھن کونریکس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کیا تھا کہ ’اسرائیلی ریاست کے خلاف کی گئی ہر کارروائی کا سخت رد عمل دیا جائے گا‘۔

اسرائیلی خبر رساں اداروں کا کہنا تھا کہ سنہ 1948 کے بعد سے پہلی مرتبہ حکومت نے گولان میں بسنے والے اسرائیلی شہریوں کو متنبے کیا تھا کہ محفوظ پناہ گاہیں تیار رکھیں اور حملے کی صورت میں فوری اس میں منتقل ہوجائیں۔

خیال رہے کہ شامی حکومت کی جانب سے فوجی چھاونیوں پر میزائل حملوں کا انکشاف ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب عالمی سطح پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سنہ 2015 میں ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے کو منسوخ کرنے کی وجہ پہلے ہی انتشار پھیلا ہوا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ کئی دنوں سے امریکا کے یورپی اتحادی بالخصوص فرانس، برطانیہ اور جرنی مسلسل ڈونلڈ ٹرمپ کو جوہری معاہدے کی منسوخی سے روکنے کے لیے کوششیں کررہے تھے، لیکن ٹرمپ نے کہا تھاکہ ’میں ایران پر دوبارہ معاشی پابندیاں عائد کروں گا اور جو ملک ایران کی مدد کرے گا اس پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں گی‘۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدوں کے باعظ خطے میں ایران کی اشتعال انگیزیوں میں مزید اضافہ ہوجاتا جارہا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں