The news is by your side.

Advertisement

دھماکوں کی آواز پر ہنسنے والی شامی بچی کو نئی زندگی مل گئی

استنبول: شام کے جنگ زدہ علاقے ادلب کی رہائشی 3 سالہ بچی صلوہ اور اُس کے والدین کو نئی زندگی مل گئی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق تین سالہ بچی اپنے والدین کے ہمراہ ترکی پہنچ گئی جہاں وہ بقیہ زندگی گزاریں گے۔

بچی کے والد عبداللہ المحمد کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ ہفتے ترکی کی دعوت پر اپنے علاقے کو چھوڑا اور سرحد پار کر کے یہاں پہنچے، صلوہ کے لیے یہاں زندگی بہتر ہوجائے گی کیونکہ اب اُسے دھماکوں کی آواز سے نجات مل جائے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر صلوہ اور اُن کے والد کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں عبداللہ اپنی صاحبزادی کا دھماکوں سے خوف ختم کررہے تھے۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا تھا کہ عبداللہ اپنی صاحبزادی کو بتا رہے تھے کہ جیسے ہی دھماکا ہوگا ہم زور سے ہنسیں گے اور پھر دونوں باپ بیٹی نے اس عمل کو جاری رکھا۔

ویڈیو دیکھیں: شام میں خانہ جنگی کے دوران بمباری میں باپ بیٹی کی دل ہلا دینے والی ویڈیو

انٹرنیٹ پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بچی نے لوگوں کی توجہ حاصل کی اور پھر ترک حکومت نے بچی کے والدین سے رابطہ کر کے انہیں اپنی سرزمین پر بقیہ زندگی گزارنے کی پیش کش کی جسے انہوں نے قبول کرلیا۔

یاد رہے کہ صلوہ اپنے والدین کے ہمراہ شام کے شہر ادلب کے علاقے سرماڈا میں رہائش پذیر تھی، یہ علاقے جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

بچی کے والد کا کہنا تھا کہ ’وہ اپنی بیٹی کو نفسیاتی مریضہ نہیں بنانا چاہتے، وہ صلوہ کی حفاظت کے لیے ہر دھماکے کے بعد ہنسنے کی ہدایت کرتے ہیں تاکہ وہ خوف کی زندگی سے باہر نکل سکے‘۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں