The news is by your side.

Advertisement

تازمامرت کا جہنّم اور 28 قیدی

برّاعظم افریقا کے ملک مراکش پر کبھی فرانس کا راج تھا۔ مراکش کے عوام نے اپنی سَرزمین پر فرانسیسی قبضے کے خلاف سخت مزاحمت اور آزادی کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا اور 1956ء میں ہزار ہا جانوں کی قربانیاں پیش کرنے کے بعد اس میں کام یابی حاصل کی۔

اسی مراکش کے ایک نام وَر ادیب، شاعر اور ناول نگار طاہر بن جلون ہیں‌ جن کے فرانسیسی زبان میں‌ لکھے گئے ناولوں کا متعدد زبانوں جن میں انگریزی، عربی اور اردو بھی شامل ہیں، ترجمہ کیا گیا ہے۔ یہاں ہم بدترین ظلم اور انسانیت سوز سلوک کی بنیاد بننے والے اُس ہولناک واقعے کی رودار نقل کررہے ہیں جس پر طاہر بن جلون نے بھی ناول لکھا۔ ملاحظہ کیجیے۔

“10 جولائی 1971ء کو مراکشی فوج کے ایک ہزار سپاہیوں کو ٹرکوں میں لاد کر الصخیرت کے گرمائی محل لے جایا گیا جہاں سلطان حسن الثانی (زمانۂ حکومت 1961ء تا 1999ء) اپنی بیالیسویں سالگرہ کی تقریب منا رہا تھا۔ تقریب میں پہنچ کر کمانڈنگ افسر نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ سلطان کو ڈھونڈ کر قتل کر دیں۔ اس حکم سے شروع ہونے والے قتلِ عام میں تقریباً سو مہمان ہلاک کر دیے گئے لیکن سلطان بچ نکلا۔”

“اس ناکام بغاوت کا ذمے دار سمجھے جانے والوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان میں سے بعض کو مختصر سماعت کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور باقی کو دس سال کی سزا دے کر قنیطرہ کے بدنام زندان میں قید کر دیا گیا، لیکن دو سال بعد ان سزا یافتگان میں سے اٹھاون لوگوں کو ٹرکوں میں لاد کر صحرائی علاقے تازمامرت میں نو تعمیر شدہ جیل پہنچا دیا گیا۔”

“اس جیل میں دس فٹ لمبی اور پانچ فٹ چوڑی زمین دوز کوٹھریاں بنائی گئی تھیں جن کی اونچائی پانچ فٹ سے زیادہ نہ تھی تاکہ قیدی کھڑا نہ ہو سکے۔ کوٹھریوں میں روشنی کا مطلق گزر نہ تھا۔ بستر کے نام پر دو پتلے کمبل دیے گئے تھے۔ کھانے کے لیے قلیل ترین غذا اور پانی دیا جاتا تھا کہ برسوں تک موت کی گگر پر اٹکے رہیں۔ رفع حاجت کے لیے کوٹھری کے فرش میں ہی ایک چھوٹا سا گڑھا تھا۔ کوٹھریوں میں کاکروچ اور بچھو رینگتے پھرتے تھے جن کو قیدی دیکھ نہ سکتے تھے، بس ان کی سرسراہٹ سن سکتے تھے۔”

“اٹھاون قیدیوں کو، روشنی، علاج معالجے اور ورزش سے محروم کر کے ان زمین دوز کوٹھریوں میں سسک سسک کر مرنے کے لیے بند کر دیا گیا۔ انہیں صرف اس وقت باہر نکلنے کی اجازت دی جاتی جب انہیں اپنے کسی ہلاک ہو جانے والے ساتھی کو دفن کرنا ہوتا۔ ان میں بیشتر لوگ جاں بحق ہو گئے، بعض مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر اور بیشتر ٹھنڈ سے ٹھٹھر کر۔ بعض کا کروچوں اور بچھوؤں کی خوراک بن گئے۔”

“باہر کی دنیا تازمامرت کے جہنمی زندان کے وجود سے تیرہ سال تک بے خبر رہی۔ حقوقِ انسانی کے کارکنوں کی کوششوں کو رنگ لانے میں مزید پانچ سال لگ گئے۔ بین الاقوامی سطح پر دباؤ کے نتیجے میں اٹھارہ سال کے بعد 1991ء میں اس جیل کو مسمار کیا گیا۔”

“تب تک صرف اٹھائیس لوگ زندہ بچے تھے۔ ان میں سے بیشتر کے جسم اس قدر مسنح ہو چکے تھے کہ سکڑنے کے سبب ان کے قد ایک فٹ تک گھٹ گئے تھے۔ بچ جانے والوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ کسی غیر ملکی صحافی سے بات نہ کریں۔ تاہم، ان میں سے ایک کیڈٹ نے باہر آنے کے بعد اس عقوبت خانے میں اپنے زندہ رہ جانے کی داستان طاہر بن جلون کو سنائی جس کے نتیجے میں فرانسیسی زبان میں ان کا ایک ناول وجود میں آیا۔”

یہ انگریزی میں This Blinding Absence of Light کے نام سے 2002ء میں شائع ہوا۔ اور پھر بھارتی ادیب، محقّق اور اردو و ہندی زبانوں‌ میں متعدد کتب کی مترجم ارجمند آرا نے اسے اردو کے قالب میں ڈھالا۔

اس ناول کی ایک خوبی یہ ہے کہ ایک ہولناک قید کا بیان اپنے فوری سیاق و سباق سے اوپر اٹھ کر ہر طرح کی بے انصاف انسانی صورتِ حال کا استعارہ بن جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں