The news is by your side.

Advertisement

طاہر القادری کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی تیاریاں

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ نے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے پر غور شروع کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد سے ملک کی تمام ہی سیاسی جماعتوں نے ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کے مؤقف کی حمایت اور ہر اقدام میں ساتھ کھڑا ہونے کی یقین دہانی کروائی۔

ماڈل ٹاؤن کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری نے شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا اور پنجاب حکومت کو 31 دسمبر تک کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔

مزید پڑھیں: طاہر القادری نے 28 دسمبر کو کُل جماعتی کانفرنس طلب کرلی

ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں بشمول پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے بھی پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کو ہر ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے دائیں اور بائیں ان دونوں جماعتوں کو بیٹھا سکتے ہیں۔

پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے حکومت کو دی جانے والی ڈیڈ لائن کی مدت جیسے جیسے قریب آرہی ہے پنجاب انتظامیہ بوکھلاہٹ بڑھتی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ڈاکٹر طاہر القادری کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر غور شروع کردیا جس کے لیے وزارتِ داخلہ کو باقاعدہ مراسلہ بھیجا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور زرداری میرے دائیں بائیں بیٹھیں گے: طاہر القادری

ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے تحریک منہاج القرآن کے سربراہ کے خلاف درج مقدمات اور عدالتی کارروائی کی رپورٹ بھی مرتب کرلی جس کے مطابق ڈاکٹر طاہر القادری کے خلاف 5 مقدمات درج ہیں جن میں سے تین انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت قائم کیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے تشکیل دی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عدالت نے طاہر القادری کے دائمی وارنٹ جاری کررکھے ہیں جبکہ عمران خان تھانہ سیکریٹریٹ میں قائم ہونے والے مقدمات پر ضمانت حاصل کرچکے ہیں اور منہاج القرآن کے سربراہ نے ابھی تک ضمانت حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع نہیں کیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں