The news is by your side.

Advertisement

اترپردیش کے انتہا پسند وزیراعلیٰ نے تاج محل کوسیاحتی گائیڈ سے نکال دیا

اترپردیش : بھارت میں ہندو انتہا پسند بے قابو ہیں، مسلمانوں پر ظلم وستم کے بعد اب تاریخی عمارتوں کو بھی نشانہ بنانے لگے، اترپردیش کے انتہا پسند وزیراعلیٰ کے حکم پر تاج محل کو یوپی کی سیاحتی گائیڈ سے نکال دیا گیا۔

مودی سرکارمیں بھارت اندھیرنگری بن گیا، مسلمانوں کے ساتھ تاریخی عمارتیں بھی انتہاپسند ہندوؤں کے نشانے پر ہیں، دنیا کے سات عجوبوں میں شامل تاج محل کو اتر پردیش کی ثقافتی وراثت سے نکالنے کے بعد اب سیاحتی گائیڈ سے بھی نکال باہر کیا گیا۔

انتہاپسند وزیراعلی آدیتیہ ناتھ کے حکم پر تاج محل کے بجائے سیاحتی گائیڈ میں متھرا،ایودھیا اور گورکھپور کے مندرشامل کرلئے گئے۔

سوشل میڈیا پر لوگوں نے تاج محل کوسیاحتی گائیڈ سے نکالنے کے فیصلے کو آڑے ہاتھوں لیا، گائے کے ذبیحہ پر پابندی،مسلمانوں پرتشدد کے بعد اب مودی سرکاراوران کے حواری مسلمانوں سے منسوب تاریخی نشانیوں کو مٹانے کے جنون میں مبتلا ہیں۔


مزید پڑھیں : وزیراعلی یوگی آدیتیہ ناتھ نے تاج محل کو مسلمانوں کی نشانی قراردے دیا


یاد رہے رواں سال جون میں اتر پردیش کے انتہا پسند وزیراعلیٰ یوگی آدیتیہ ناتھ نے دنیا کے عجوبوں میں شامل تاج محل کو مسلمانوں کی نشانی قرار دیا تھا۔

یوگی آدتیہ ناتھ نے دنیا بھر میں مشہور تاج محل کو ثقافت کا حصہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے لئے تاج محل ایک عمارت کے سوا کچھ نہیں ہے، تاج محل اور دیگرمیناروں والی عمارتوں کے ماڈل تحفے میں دینا بھارتی تہذیب نہیں۔

خیال رہے کہ تاج محل کو دنیا بھر میں محبت کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے جبکہ یہ دنیا کے سات عجوبوں میں سے ایک ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں