The news is by your side.

Advertisement

تاجکستان میں حکمران خاندان کے اقتدار کو طول دینے کے لیے ریفرنڈم

دوشنبہ: تاجکستان کے صدر ملک کو موروثیت کی جانب لے جانے کی کوششوں میں لگ گئے۔ ملک میں ریفرنڈم کی آڑ میں حکمران خاندان کے لیے اختیارات مانگ لیے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مسلم اکثریتی ملک تاجکستان میں منعقدہ ریفرنڈم میں عوام سے مذہبی سیاسی جماعتوں پر پابندی سے متعلق رائے مانگی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صدر کی جانب سے یہ اقدام اسلام پسند حزب اختلاف کو سیاست سے بے دخل کرنے کی کوشش ہے۔

صدر امومالی رحمان کی جانب سے کروایا جانے والے ریفرنڈم میں ووٹروں سے یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ کیا کوئی شخص جتنی بار چاہے صدر بن سکتا ہے اور صدارتی امیدوار کی عمر 35 سال سے کم کر کے تیس سال کردی جائے۔ یاد رہے کہ صدر امومالی 1994 سے اقتدار میں ہیں۔

صدر کی کم سے کم عمر میں ترمیم کا مقصد اپنے بڑے بیٹے کو انتخاب لڑانا ہے۔ صدر کے بڑے بیٹے اس وقت 29 سال کے ہیں اور اگلا انتخاب 2020 میں ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کی جانب سے ریفرنڈم ملک کو موروثیت کی جانب لے جانے کی کوشش ہے۔

تاجکستان میں ریفرنڈم کے لیے آج پولنگ کی جارہی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں