The news is by your side.

یورپی یونین نے طالبان حکومت کیلیے بڑی مشکل کھڑی کردی

برسلز : افغانستان کی نئی طالبان حکومت کے قیام کے بعد اسے مختلف ممالک کی جانب سے تسلیم کرانے کی کوششیں جاری ہیں اس سلسلے میں یورپی یونین نے طالبان حکومت کو مشکل میں ڈال دیا۔

اطلاعات کے مطابق یورپی یونین نے کسی بھی حالت میں طالبان کو تسلیم نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے، اس حوالے سے یورپی یونین کے کمیشن کے صدر اورسولا فون درلین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں سماجی اور اقتصادی بحران پر قابو پانے کی کوشش کی جانی چاہیے اور افغانستان میں طاقت کے بل پر بننے والی طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔

EU upset by Taliban government reveal - Global Village Space

یورپی یونین کے کمیشن کی صدر کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب سنیچر کے روز سے قطر کے شہر دوحہ میں طالبان، امریکہ اور یورپی یونین کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں افغانستان کی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

اس عالمی ادارے کی رپورٹ میں بیرونی امداد کی معطلی، حکومت افغانستان کے سرمایوں کے منجمد ہونے نیز طالبان کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں نے ملک کو غربت و افلاس کی انتہا پر پہنچا دیا ہے اور افغانستان ایک شدید معاشی بحران میں داخل ہوتا جا رہا ہے۔

European Union Threatens Taliban With "Isolation" If Seizes Power

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمی اداروں پر افغانستان کے خلاف پابندیاں کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کو انسانی المیہ کا سامنا ہے اور افغانستان کے موجودہ بحران کے پیش نظر اس ملک میں کئی ملین افراد کی جان کو خطرات لاحق ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو کروڑ اٹھائیس لاکھ افغان شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے جو افغانستان کی آبادی کا نصف حصہ ہیں اور دس لاکھ افغان بچےغذائی قلت کا شکار ہو چکے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کیلئے ہر ماہ بیس کروڑ ڈالر کی انسان دوستانہ مدد درکار ہے۔

اس سے قبل طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بھی ایک خط میں امریکی کانگرس پر زور دیا تھا کہ وہ افغان عوام کے اثاثوں کو آزاد کرے جبکہ طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ مغربی ممالک افغانستان میں جان بوجھ کر اقتصادی بحران پیدا کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان نے15 اگست کو افغانستان کا کنٹرول سنبھالا اور7 ستمبر کو عبوری حکومت تشکیل دی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں