The news is by your side.

Advertisement

افغان حکومت اورطالبان کےدرمیان مذاکرات آخری لمحات میں منسوخ

دوحا : افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے دوحا مذاکرات آخری لمحات پر منسوخ کردیئے گئے، ترجمان افغان صدارتی محل نے مذاکرات منسوخی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا مذاکرات افغان وفدپرقطری حکومت کے اعتراض پر منسوخ ہوئے۔

عرب میڈیا کے مطابق افغان حکومت اورطالبان کےدرمیان مذاکرات منسوخ ہوگئے ، یہ مذاکرات آخری لحمات پر منسوخ ہوئے ہیں ،جب افغان حکومت کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کرنے والے وفد کی فہر ست میں دوسوپچاس کو شامل کیا گیا تھا۔

یہ مذاکرات آج سے قطر میں ہونے تھے، جن میں افغانستان میں قیام امن سے متعلق امور پر بات کی جانی تھی۔

ترجمان افغان صدارتی محل نے بھی دوحہ میں افغان حکومت اورطالبان کے درمیان مذاکرات کی منسوخی کی تصدیق کردی اور کہا مذاکرات افغان وفدپرقطری حکومت کے اعتراض پر منسوخ ہوئے، مذاکرات20اور21اپریل کودوحہ میں ہونےتھے۔

یاد رہے طالبان نے مذاکرات کے لئے افغان حکومت کے 250 رکنی وفد پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا یہ کانفرنس ہے شادی کی تقریب یا دعوت نہیں۔

طالبان سے ملاقات کےلئے افغان حکام نے 250 رکنی وفد کی فہرست جاری کی تھی ، جس میں افغان صدر اشرف غنی، چیف آف اسٹاف عبدالسلام رحیمی اور انتخابات میں ہارنے والے رہنما امراللہ صالح سمیت افغان انٹیلی جنس کے سابق سربراہ سمیت 52خواتین بھی شامل تھیں۔

مزید پڑھیں : یہ کانفرنس ہے شادی کی تقریب یا دعوت نہیں، طالبان کی افغان حکومت پرتنقید

اس سے قبل 2015 میں طالبان کی افغان حکومت سے ملاقات خفیہ طور پر پاکستان میں ہوئی تھی، جو افغان طالبان کے رہنما ملا عمر کی ہلاکت کی خبر کے ساتھ فوری ختم ہوگئی تھی۔

خیال رہے 18 سالہ امریکی مداخلت کے بعد واشنگٹن کے طویل عرصے سے زور دینے پر قطر میں ہونے والی 3 روزہ مذاکرات کا آغاز جمعے سے ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے دوحہ میں مذاکرات کی سربراہی کرنے والے افراد کی حتمی فہرست کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا ۔

طالبان نے رواں سال فروری کے مہینے میں ماسکو میں ہونے والے مذاکرات میں افغان نمائندوں سے ملاقات کی تھی تاہم اس میں اشرف غنی حکومت کا کوئی بھی فرد شامل نہیں تھا، سابق صدر حامد کرزئی کے ترجمان جو ماسکو مذاکرات میں موجود تھے۔

رواں ماہ اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے طالبان کے وفد کے 11 افراد پر سے سفری پابندی ختم کردی ہے تاکہ وہ مذاکرات کا حصہ بن سکیں۔

واضح رہے افغان حکام اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کے باوجود طالبان نے افغانستان میں دہشت گرد حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں