The news is by your side.

Advertisement

افغان طالبان کا عسکریت پسندوں کے خلاف اشتہاربازی بند کرنے کا مطالبہ

کابل: طالبان نے افغان ذرائع ابلاغ کو متنبہ کیا ہے کہ وہ عسکریت پسندی یا شدت پسندوں کے خلاف کسی قسم کا اشتہار چھاپنے یا نشر کرنے سے گریز کریں، افغانستان میں طالبان ان دنوں امریکا سے مذاکرات کے مراحل میں ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ افغان ذرائع ابلاغ نے اس ہدایت کو نظرانداز کیا تو اس کے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

افغان طالبان کے ترجمان نے ایسے اداروں کو ایک ہفتے کی مہلت دی ہے اور کہا ہے کہ اس کے بعد انہیں میڈیا آفس کی جگہ فوجی ہدف قرار دیا جائے گا اور اس صورت میں انہیں حملوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا کی حمایت سے قائم ہونے والی کابل حکومت، افغان میڈیا پر عسکریت پسندوں کے خلاف نشر ہونے یا چھپنے والے اشتہارات کا معاوضہ سرکاری خزانے سے ادا کرتی ہے۔

خیال رہے کہ طالبان اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرا ت کا آخری دور رواں برس مئی میں مکمل ہوا تھا جس میں طے پایا تھا کہ امریکا افغانستان سے نکل جائے گا اور طالبان انخلا کے عمل میں رخنے نہیں ڈالیں گے۔طالبان نے افغان حکومت سے مطالبات غیر ملکی افواج کے انخلا سے مشروط کررکھے ہیں۔

دوسری جانب طالبان نے ماسکو میں روسی حکومت سے بھی مذاکرات کیے تھے جبکہ ایران اور پاکستانی حکومت سے بھی ان کے مذاکرات جاری ہیں۔

ان تمام مواقع پر طالبان نے یہی موقف اختیار کیا ہے کہ افغانستان میں قیامِ امن سے متعلق کسی بھی معاہدے پر اتفاق کے لئے بین الاقوامی افواج کا انخلاء انتہائی ضروری ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں