The news is by your side.

تسنیم حیدر کے ساتھی ملک لیاقت کی اپنے بیان سے لاتعلقی کی افواہوں کی تردید

مسلم لیگ ن لندن کے ترجمان تسنیم حیدر کے ساتھ سنسنی خیز پریس کانفرنس کرنے والے ملک لیاقت نے اپنے بیان سے لاتعلقی کی افواہوں کی تردید کردی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق لندن میں ن لیگی رہنما تسنیم حیدر کے ساتھ پریس کانفرنس کرنے والے ملک لیاقت نے اپنے بیان سے لاتعلقی کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ تسنیم حیدر کی پریس کانفرنس میں جو بیان دیا اس پر قائم ہوں اور میں تسنیم حیدر شاہ کے بیان کی گواہی دینے کے لیے بھی تیار ہوں۔

ملک لیاقت نے کہا کہ میرے خلاف بیان واپس لینے کا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ تسنیم حیدر شاہ نے 29 اکتوبر کو قتل کی سازش سے متعلق آگاہ کیا تھا۔ شروع میں تسنیم حیدر کا بیان سنجیدہ نہیں لیا تھا لیکن بار بار بتانے پر تشویش ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ تسنیم حیدرشاہ سے 20 نومبر والی پریس کانفرنس پر پہلی ملاقات نہیں تھی۔ وہ میرا 20 سال سے دوست ہے اور مجھے اس پر مکمل اعتماد ہے اور اس نے قتل کی سازش کا پریس کانفرنس سے 25 دن پہلے بتایا تھا۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) لندن کے ترجمان تسنیم حیدر شاہ نے گزشتہ دنوں دعویٰ کیا تھا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر حملہ اور صحافی ارشد شریف کے قتل کی سازش لندن میں ہوئی تھی۔

تسنیم حیدر شاہ نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے بتایا تھا کہ وہ 20 سال سے مسلم لیگ (ن) سے منسلک ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران نواز شریف کے ساتھ حسن نواز کے دفتر میں 3 ملاقاتیں ہوئیں۔ مجھے میٹنگ کے لیے بلا کر بتایا گیا کہ ارشد شریف اور عمران خان کو قتل کرنا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی میٹنگ 8 جولائی، دوسری 20 ستمبر اور تیسری 29 اکتوبر کو ہوئی۔

عمران خان پر قاتلانہ حملے اور ارشد شریف کے قتل سے متعلق تسنیم حیدر کے الزامات کے بعد لندن پولیس نے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کردیا۔ دوسری جانب سینئر صحافی ارشد شریف کی شہادت کے معاملے پر ایف آئی اے نے لیگی رہنما تسنیم حیدر کو طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں