پانچ سو روپے سے کم بیلنس پر کوئی کٹوتی نہیں ہوگی -
The news is by your side.

Advertisement

پانچ سو روپے سے کم بیلنس پر کوئی کٹوتی نہیں ہوگی

اسلام آباد: اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور نےسپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ موبائل کمپنیوں کو ہدایت کردی کہ 500 روپے سے کم کارڈ پر کسی قسم کے ٹیکس کی کٹوتی نہیں کی جائے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں موبائل کمپنیوں کی جانب سے رقم کی کٹوتی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت کو کمپنیوں کو ارسال کی جانے والی ہدایت سے متعلق آگاہ کیا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ موبائل کارڈ کے ری چارج پر ہونے والی کٹوتی سے متعلق قانون سازی کا عمل کہاں تک پہنچا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ سپریم کورٹ قانون سازی کرنے کے لیے مزید کچھ وقت فراہم کرے تاکہ رقم کی کٹوتی سے متعلق باقاعدہ قانون بنایا جائے۔ عدالت نے وقت مہیا کرتے ہوئے سماعت کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔

مزید پڑھیں: موبائل کارڈز پر ٹیکس تا حکم ثانی معطل رہے گا، چیف جسٹس

واضح رہے کہ 3 مئی کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے موبائل کارڈ کے ریچارج پر رقم کی کٹوتی کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے تمام موبائل کمپنیوں کو نوٹس جاری کئے تھے۔

چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ 100روپے کے کارڈ یا بیلنس پر 40 روپے کاٹ لیے جاتے ہیں، اتنا زیادہ ٹیکس کس قانون کے تحت اورکس مد میں لیا جاتا ہے؟

خیال رہے کہ پاکستان میں موجود موبائل فون کمپنیاں 100 روپے کے ری چارج پر 40 روپے کی کٹوتی کرتی تھیں جس میں سروس چارجز اور ٹیکس کی رقم شامل تھے، صارفین کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ کمپنیوں کی جانب سے کٹوتی زیادتی اور ظلم ہے جس پر کوئی اُن سے جواب طلب نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیں: موبائل فون صارفین کو سو روپے کے کارڈ پر سو روپے کا بیلنس ملتا رہے گا

یاد رہے چیف جسٹس آف پاکستان نے 11 جون کو موبائل فون کارڈز پر وصول کئے جانے والے ٹیکسز معطل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کمپنیوں کو دو روز کی مہلت دی تھی۔ اس سے قبل سماعت میں سپریم کورٹ نے موبائل کارڈ ز پر کئی قسم کے ٹیکس پیسہ ہتھیانے کا غیر قانونی طریقہ قرار دیا تھا۔

چیف جسٹس کے حکم کے بعدموبائل کمپنیوں نے 100 روپے کے کارڈ پر 100 روپے کا بیلنس دینے کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ محکمے کو کمپنیوں کے ساتھ مل کر فریم ورک تشکیل دینے کا حکم جاری کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں