The news is by your side.

Advertisement

حکومت کا ٹیکسز میں کمی کا بڑا اعلان، موبائل فون پر 5 منٹ سے زائد کی کال پر کتنا ٹیکس ہوگا؟

اسلام آباد : حکومت نے فوڈ آئٹمز سمیت کئی اہم شعبوں میں ٹیکسز میں کمی کا اعلان کردیا ، وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ آٹے اور اس کی اشیا پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا،دودھ اور دیگر مصنوعات ، سرکاری ملازمین کے میڈیکل پر ٹیکس بھی واپس لے لیا جبکہ موبائل فون پر پانچ منٹ سے زائد کی کال پر پچھہتر پیسے ٹیکس لیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خزانہ کمیٹی نےبجٹ پرتجاویز دیں، فوڈآئٹمز، دودھ اور دیگرمصنوعات سمیت سرکاری ملازمین کےمیڈیکل پر ٹیکس واپس لےلیا ہے، آٹے اور اس کی اشیا پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا جبکہ پراپرٹی پرٹیکس کی شرح 35سےکم کرکے20فیصدکردی۔

حکومت نے 800سےبڑھاکر ہزار سی سی تک گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا موبائل کالز،انٹرنیٹ پرجوٹیکس لگایاتھااس میں تبدیلی کردی گئی ، انٹرنیٹ،ایس ایم ایس پرکوئی ٹیکس نہیں ہوگا، موبائل فونزپر5منٹ سےزائدکال کرینگےتو75پیسےٹیکس لیں گے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹیکس نادہندگان کیخلاف تھرڈپارٹی کی مددلیں گے، اس معاملےمیں ایف بی آرکونہیں بھیجیں گے، ٹیکس نادہندہ کوتمام قانونی کارروائی کےبعدگرفتارکرنےکی اجازت ہونی چاہیے، دنیابھرمیں بڑےبڑےٹیکس نادہندگان کی گرفتاریوں کی مثالیں ملتی ہیں۔

آئی ایم ایف کے مطالبات کے حوالے سے شوکت ترین نے کہا آئی ایم ایف نے700 ارب کےٹیکسزلگانےکی شرط رکھی، میں کھڑا ہوگیا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کیسے ٹیکس لگادوں، آئی ایم ایف کوکہہ دیاہےکہ ٹیرف میں مزیداضافہ نہیں ہوگا، غریب پرمزیدبوجھ نہیں ڈال سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں قرض لیکرگروتھ دکھائی گئی، حکومت کےپاس آئی ایم ایف کےپاس جانےکےسواکوئی چارہ نہیں تھا، 2018-19میں ملکی گروتھ 2فیصدپرآگئی، عمران خان نےملک کی خاطر کورونا،معاشی مشکلات کےباوجود سخت فیصلےکیے۔

کاروباری افراد سے متعلق وزیرخزانہ نے کہا کاروباری افراد کی گرفتاری سےمتعلق رضاربانی نےبات کی ہے، اس دفعہ بجٹ میں سیلف اسسمنٹ کا آپشن لائے ہیں، ایف بی آراب کسی کوہراساں نہیں کر سکے گا ، پہلی بارایساہو گہ اب تھرڈپارٹی آڈٹ ہوگا، آڈٹ کےبعدبھی کسی کوگرفتارنہیں کیاجائےگا، آڈٹ کےبعداس بندے کو وہیں بٹھاکربات کی جائے گی۔

شوکت ترین نے بتایا کہ 15لاکھ افرادکی لسٹ ہمارےپاس آ گئی ہے، ان لوگوں کےٹیکسزسےمتعلق معاملات کودیکھاجارہاہے، یہ معاملہ ایف بی آرکونہیں بھیجا جائے گا کیونکہ یہ ہراساں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کاہاؤسنگ اسکیم شروع کرنابہت بڑافیصلہ تھا، کوروناکےدوران دنیابھرمیں منفی گروتھ ہوئی، عمران خان نےکوروناکوجس طرح ہینڈل کیااسکی دنیانےتعریف کی، ہم نےدنیاکےاعدادوشمارسےدگنی گروتھ کی ، اس بارجومعاشی گروتھ ہوگی وہ دیرپاہوگئی۔

ملکی قرضوں کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا 2018میں قرضے30ٹریلین تک پہنچ گئے، پی ٹی آئی کےپاس کوئی اور چارہ نہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس جائیں ، آئی ایم ایف نےسخت شرائط رکھیں، آئی ایم ایف نےکہاہم پیسےنہیں دیں گےجب تک آپ یہ شرائط نہیں مانتے۔

شوکت ترین کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایکس چینج ریٹ کو169پرلیکرچلےگئے، طاس دوران کوروناآگیا،پہلی لہرپھردوسری اورتیسری لہر، ان تمام مشکلات کے باوجود عمران خان نےفیصلےکیے، عمران خان نےکہاکنسٹرکشن کوبڑھاوادیناہے، غریب آدمی تک معیشت کے اثرات کبھی نہیں پہنچے ، ہم نے غریب ادمی کا خیال رکھا ، اربن ایریازکےغریب گھرانوں کوبلاسود5لاکھ قرض دیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ عمران خان نےکہامدینے کی ریاست انصاف ہوگاایساپہلی بارہوا، اگرگروتھ اسٹریٹجی کی طرف جاناہےتوریونیوبڑھاناہوگا، اگلےسال کیلئےہم نے 5ہزار800کابجٹ رکھاہے، ٹیکس کےنظام میں تبدیلیاں لارہےہیں، لوگ کہتےہیں کہ ایف بی آرنےہراساں کیا ہے، ٹیکس نادہندگان کیخلاف تھرڈپارٹی کی مددلیں گے، قانونی کارروائی کے بعد گرفتار کرنےکی اجازت ہوگی۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ضم شدہ پختونخوااضلاع کیلئےبھی کافی رقم رکھی گئی ہے،بلوچستان کی ترقی،کراچی ٹرانسفارمیشن پلان،گلگت کی ترقی پرپیسہ خرچ ہوگا۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ای کامرس ٹیکس ختم کردیاگیا، رجسٹرڈ ای کمپنیوں پرصفرٹیکس ہوگا اور نان رجسٹرڈایی کمپنیوں پر2 فیصدٹیکس ہوگا۔

زرعت کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ سب سےپہلےزرعت کےشعبےپرپیسےخرچ کریں گے، ہم زرعی ملک ہونےکےباوجودکئی زرعی اجناس درآمد کرتے ہیں، پچھلے15،20سال سےزراعت کےشعبےپرتوجہ نہیں دی دی گئی، مڈل مین کو ختم کرنے لیے نیا طریقہ کار لارہےہیں ، ایگری مالزکاپورےملک میں جال پھیلائیں گے، ایگری مالزمیں کسان،ہول سیلربا آسانی اپنامال بیچ سکےگا.

وزیر خزانہ نے بتایا کہ انڈسٹریزکو45ارب کی مراعات دےرہےہیں، انڈسٹریزجب چلتی ہیں تو نوکریوں ملتی ہیں،انکم بڑھتی ہے، انڈسٹریزکی ترقی سےدرآمدات میں کمی آئے گی ، ایس ایم ای کوبڑھانےکی کوشش کررہےہیں، ماضی میں ایس ایم ای کوقرض دینےکیلئےکوئی تیارنہیں تھا۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اسمال اینڈ میڈیم انڈسٹری کو بڑھاوا دے رہےیں ،اسمال اینڈ میڈیم انڈسٹریز کو کوئی قرضے نہیں دیتا تھا ، اسمال اینڈ میڈیم انڈسٹریز کو 100ارب قرضے دیے جائیں گے،ایس ایم ای کو9فیصدپرقرض دیاجائےگا۔

انھوں نے کہا کہ میری گاڑی اسکیم متعارف کرانےجارہےہیں، ٹیکسٹائل کودی جانیوالی مراعات کوجاری رکھیں گے، آئی ٹی شعبےکی ترقی کیلئے ان کو ٹیکس کی چھوٹ دےدی، آئی ٹی کاشعبہ6سے8بلین کی گروتھ کرےگا۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ہم چین سےبیٹھ کرمسائل پربات کرینگےکوئی بڑی بات نہیں، چین کچھ صنعتیں ویت نام لے جارہاتھا، ہم نے چین کو منالیا وہ صنعت یہاں لائیں گے ، اب درآمدات بڑھانےکیلئےچین سمیت دیگرممالک سےسی پیک میں سرمایہ کارلائیں گے۔

شوکت ترین نے کہا کہ اب ہرشہری بینک سےہاؤسنگ لون لےسکتاہے، یہ سیکٹر40انڈسٹری کوکھڑاکردیتاہےروزگاربھی پیداہوتاہے، ہاؤسنگ اسکیم کے لیے 3ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

احساس پروگرام کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام دنیا کا چوتھا بڑا پروگرام ہے، احساس پروگرام مین12ملین گھروں کوپیسےدیےگئے، احساس پروگرام میں260ارب روپے رکھے گئے۔

ویکسی نیشن سے متعلق وزیر خزانہ نے کہا کہ 10کروڑافرادکی ویکسی نیشن کاہدف رکھاگیاہے، ویکسی نیشن پر1.1ارب ڈالرمختص کیاہے،جون 2022 میں 10 کروڑ افراد کو ویکسی نیٹ کرنے کا ہدف ہے۔

پاورسیکٹر کے حوالے سے شوکت ترین نے بتایا کہ جوبجلی ہم استعمال نہیں کررہےاس کی مد میں900ارب دیناپڑرہاہے، اگلے سال ہمارا سرکلر ڈیڈ جہاں ہے اس سے کم ہوگا، ہم پاورسیکٹرکوٹھیک کرنے کی کوشش کرینگے، توانائی کے شعبے میں کیپسٹی پیمنٹ 900 ارب روپے ہے،عمران خان نے بجلی کی قیمت بڑھانے سے منع کیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ غریب طبقےکوآٹے،گھی،بجلی پر سبسڈی دیں گے، ہمیں پانی کی قلت ہےجس کےباعث وزیراعظم نےڈیمزمیں پیسےڈالےہیں، ڈیمز 7سے 8 سال پر محیط منصوبے ہوتے ہیں، ہم نے معاشرے کیلئے امید کا بجٹ دیاہے، پہلی بار 40 سے 60لاکھ لوگوں کو پورا پیکج دیا جارہا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سونےکی ویلیو ایڈیشن پر17 فیصدٹیکس برقراررہے گا، آئی ٹی کی صنعت کو ٹیکس چھوٹ دی گئی، آئندہ 2سال میں آئی ٹی صنعت 8 ارب ڈالر برآمدات کرےگی۔

شوکت ترین نے کہا کہ وزیراعظم ملک میں ای ووٹنگ سسٹم متعارف کروانا چاہتے ہیں ، ای ووٹنگ سسٹم کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں