بال بوائے سے بین الاقوامی کھلاڑی کا سفر -
The news is by your side.

Advertisement

بال بوائے سے بین الاقوامی کھلاڑی کا سفر

سرزمین پاکستان کئی نامور کھلاڑیوں کو جنم دے چکی ہے،باصلاحیت کھلاڑیوں میں ٹینس کے ریکارڈ ساز قومی چیمپیئن عقیل خان کا نام بھی شامل ہےجو سنگلز اور ڈبلز ایونٹ میں کئی میڈلز اور ٹرافیاں قومی اور بین الاقوامی سطح پر جیت چکے ہیں۔

اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو میں عقیل خان نے بتایا کہ انھوں نے کیرئر کا آغاز بال بوائے بن کر کیا اور پھر اپنے والد کی کوچنگ میں زیرِ تربیت رہتے ہوئے آگے بڑھتے چلے گئے۔ ان کی بھی یہی خواہش رہی ہے کہ وہ دنیائے ٹینس کے گرینڈ سلم ایونٹ میں اپنے ملک کی نمائندگی کریں،لیکن مالی حالات مضبوط نہ ہونے کے باعث اور اسپانسر نہ ملنے کے سبب ان کا یہ خواب ابھی تک ادھورا ہے۔

عقیل خان کہتے ہیں کہ اور دوسری فیلڈز کی طرح ٹینس کا بھی بے پناہ ٹیلنٹ پاکستان میں موجود ہے جو کہ حکومت کی بے توجہی کے باعث آگے بڑھ نہیں پارہا‘ ریٹائرمنٹ میں دو یا تین سال باقی ہیں دعا یہی ہے کہ گرینڈ سلم کھیلنے کا سنہرا موقع مل جائے۔

عقیل خان نے انٹریو کے دوران اپنی زندگی کا یادگار واقعہ بتایا کہ نوے کی دہائی میں اسلام آباد سے کراچی آتے وقت ایک میجک بک جس کو کھولتے ہی کرنٹ لگتا ہے،سامان کی تلاشی کے دوران ایئرپورٹ پر کسٹم والوں نے پکڑ لی اور پھر ایک بڑا ایشو بنا دیا گیا، نوبت حوالات کی سیر کرنا پڑی۔ جب بھی واقعہ یاد آتا ہے تو ہنسی آجاتی ہے۔


اژدھے کے پیٹ میں‌ پھنسی ٹینس بال منہ کے ذریعے باہر نکال لی گئی


 کئی ممالک سے عقیل خان کو کوچنگ کی آفرز بھی آچکی ہیں لیکن انھوں نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا رکھا ہے کہ جینا مرنا اسی ملک کے لیے ہے اور اگر دوبارہ زندگی ملی تو ٹینس کھیلنے کو ہی ترجیح دیں گے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کراچی میں کوچنگ اکیڈمی قائم کرنے کے خواہشمند ہیں جہاں سے نکلا ٹیلنٹ دنیا بھر میں سبز ہلالی پرچم کو بلند کرسکے۔

عقیل خان اب ڈیوس کپ گروپ ٹو کے فائنل کی تیاریاں میں مصروف ہوجائیں گے، پندرہ سے سترہ ستمبر تک تھائی لینڈ کے خلاف اہم مقابلے اسلام آباد میں شیڈول ہیں، ان کی دعا ہے کہ کیریئرکے اختتام سے قبل پاکستان ڈیوس کپ گروپ میں جگہ بنائے اور پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔

گورنر سندھ سے پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ لیتے ہوئے

ٹینس میں گراں قدر خدمات پر عقیل خان کو متعد د دیگر ایوارڈز کے ساتھ پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے ‘ تاہم ٹینس کے کھیل کو سپورٹ کرنے میں حکومتی سطح پر تاحال کوئی سنجیدگی نظر نہیں آرہی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں