The news is by your side.

Advertisement

گردوں پر کرونا کے خوفناک اثرات! حیران کن انکشاف

حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کرونا وائرس میں مبتلا ہوکر اسپتال میں زیر علاج رہنے والے مریضوں کو صحتیابی کے بعد گردوں کی انجری کروانی پڑتی ہے۔

طبی جریدے جرنل جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع ہونے والی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ جو کرونا مریض اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد صحتیابی کی طرف جاتے ہیں ان کے گردوں میں خرابی پیدا ہوسکتی ہے جس کے باعث انہیں انجری کی ضرورت پڑے گی۔

محققین نے کہا کہ اسپتال میں زیر علاج 20 فیصد سے زائد کرونا مریضوں کے گردوں کو نقصان پہنچا جبکہ آئی سی او میں ایڈمٹ افراد میں یہ شرح 50 فیصد سے زیادہ ہوجاتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 کے نتیجے میں گردوں کے امراض کا سامنا ہوسکتا ہے، جن کی شدت سنگین ہونے پر ڈائیلاسز اور گردوں کی پیوند کاری کی ضرورت ہوسکتی ہے، تاہم ابھی اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اسپتال سے ڈسچارج کیے جانے والے ڈیڑھ ہزار سے زائد مریضوں کی انجری کا جائزہ لیا گیا جس سے پتہ چلا کہ کرونا میں مبتلا ہونے اور صحتیابی کے بعد ان گردوں کی فعالیت میں کمی آئی ہے جبکہ ماضی وہ کسی بھی بیماری کا شکار نہیں ہوئے۔

اسی طرح کورونا وائرس جسے ایس ٹو ریسیپٹرز سے منسلک ہوکر خلیات کے اندر پہنچتا ہے ان کی کافی تعداد گردوں میں بھی ہوتی ہے۔

محققین نے بتایا کہ اس کے نتیجے میں لوگوں میں آکسیجن کی سطح کم ہوتی ہے، دل 20 فیصد خون گردوں کی طرف جاتا ہے، جب خون میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے تو گردوں کو خون کی فراہمی میں کمی آتی ہے اور گردے آکسیجن کی سطح کے حوالے سے بہت حساس ہوجاتے ہیں۔

اسی طرح وائرس سے ہونے والے نقصان کی روک تھام کے لیے بہت زیادہ متحرک مدافعتی نظام کو بھی نقصان پہنچاتا ہے جس سے گردوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں