site
stats
صحت

ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے پیدا ہونے والا بچہ جائز قرار

اسلام آباد: وفاقی شرعی عدالت نے بے اولاد شادی شدہ جوڑوں کے ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے پیدا ہونے والے بچوں کو جائز قرار دے دیا اور کہا ہے کہ اس کے سوا دیگر طریقہ کار غیر شرعی ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی شرعی عدالت میں دائر درخواست پر فل بینچ نے سماعت کی۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد بے اولاد شادی شدہ جوڑے کے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کو جائز قرار دیتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا۔

وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹیسٹ ٹیوب کے علاوہ دیگر طریقہ کار غیر شرعی ہوں گے جبکہ شرعی کورٹ نے غیر شرعی طریقے اختیار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی ہے۔

کورٹ کے فل بینچ نے حکومت کو قانون میں ترمیم کر کے اسے 5 اگست تک مکمل کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔ شرعی عدالت سے منظوری کے بعد قانون منظوری کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہو کر آئین کا حصہ بنایا جائے گا۔

ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی پیدائش کس طرح ممکن ہے؟

سائنسی طریقہ کار کے تحت وہ جوڑے جو قدرتی طریقے سے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ان کے لیے طبی ماہرین نے خاص طور پر ایک طریقہ علاج دریافت کیا ہے جس کے تحت شوہر اور بیوی کا مادہ حمل جسم سے باہر آپس میں ملایا جاتا ہے۔

test-post-1

جسم سے باہر تشکیل دیے جانے والے حمل کی بقیہ افزائش ماں کے جسم کے اندر ہی عام طریقہ کار کے مطابق ہوتی ہے۔

اس عمل کی اجازت محض ان جوڑوں کو دی جاتی ہے جو اس نعمت سے محروم ہیں اور طبی جانچ پڑتال سے ثابت ہو چکا ہو کہ مذکورہ جوڑے کے پاس اولاد پیدا کرنے کے لیے اس طریقہ عمل کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ غیر ضروری طور پر اس عمل کو بجا لانے کے خواہش مند جوڑوں کی حوصلہ شکنی بھی کی جاتی ہے۔

test-post-3

یہ طریقہ کار سائنسی ماہرین نے تیس برس قبل ایجاد کیا تھا اور دنیا میں بے اولاد جوڑے اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تاہم پاکستان میں اس طریقہ کار کو غیر شرعی قرار دیا گیا تھا۔

وفاقی شرعی عدالت نے اس مسئلے پر دائر درخواست کی سماعت کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دیا تھا جس نے شرعی نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے پیدا ہونے والے بچے کو جائز قرار دیا۔

test-post-43
وفاقی شرعی کورٹ پاکستان میں اسلامی اور شرعی احکامات کے تناظر میں فیصلہ کرتی ہے۔ اس عدالت میں ملک سے سودی نظام کے خاتمے سمیت دیگر اہم مقدمات کی سماعت کی جاتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top