The news is by your side.

Advertisement

امریکہ میں سیاہ فام پارسل بموں نشانے پر

آسٹن: امریکی ریاست ٹیکساس میں گزشتہ رات کار دھماکے میں دو افراد شدید زخمی ہوگئے‘ گزشتہ دس دنوں کے دوران 3 بم دھماکوں میں دو سیاہ فام امریکی شہری ہلاک ہوچکے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس کے شہرآسٹن میں گذشتہ رات ایک کارکے اندر لگائے گئے دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے دو افراد شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ت۔

ٹیکساس میں مارچ کے آغاز سے اب تک تین بم دھماکے ہوچکے ہیں جس میں دو ہلاک جبکہ دو شہری شدید زخمی ہوگئے تھے، پولیس نے تاحال اس بات کی تصدیق نہیں ہے کہ آیا گذشتہ رات ہونے والے حملے کا تعلق بھی پچھلے دھماکوں سے ہے؟ پولیس نے علاقہ مکینوں کو تاکید کی ہے کہ جب تک جائے وقوع کو محفوظ قرار نہیں دیا جاتا لوگ اپنے گھروں میں رہیں۔

گذشتہ رات ہونے والے بم دھماکے کے کچھ گھنٹوں بعد حکام نے حملے میں ملوث افراد کی معلومات دینے والے کو ایک لاکھ ڈالر کی خطیر رقم انعام میں دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ ریاست کے گورنر نے حملہ آوروں تک رسائی میں مدد کرنے والے افراد کے لیے ہندرہ ہزار ڈالر انعام میں دینے کا اعلان کیا تھا۔

مارچ کے مہینے میں ہونے تمام بم دھماکوں میں ہلاک ہونے دونوں افراد سیاہ فام امریکی تھے، ٹیکساس پولیس نے نسل پرستی کی بنیاد پر ہونے والے متعدد واقعات کےباوجود نسل پرست انتہا پسندوں کے خلاف کوئی خاص اقدامات نہیں کیے ہیں۔

آسٹن پولیس کے سربراہ برائن مینلی کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ حملے میں ملوث افراد ان کارروائیوں سے کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کے پیچھے کوئی خصوص فکر کارفرما ہے یا نہیں‘ اس کی تصدیق ابھی نہیں کرسکتے، لیکن ان کے پیچھے جو بھی ہے وہ اپنے مطالبات کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کرے۔

پولیس چیف نے عوام سے درخواست کی ہے کہ کسی بھی مشکوک چیز یا پارسل کو چھونے سے گریز کریں کیوں کہ ’جتنے بھی دھماکے ہوئے ہیں وہ بھیجے گئے پارسل کوچھونے سے ہوئے ہیں‘۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ گذشتہ پیرسے اب تک مشکوک چیزوں کے حوالے 735 شکاتیں درج ہوچکی ہیں۔ سیکڑوں وفاقی جاسوس بھی ان حملوں کی تحقیقات میں مقامی پولیس کی مدد کررہے ہیں، تاہم پھربھی ان حملوں میں ملوث افراد کا سراغ نہیں چل سکا اور نہ ہی اس حوالے کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

آسٹن کار بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے17سالہ ڈرالین ولیم اور 29سالہ انتھونی اسٹیفن

پہلا دھماکہ 2 مارچ کو ایک گھر میں ہوا تھا جس میں انتھونی نام کا 29سالہ شخص کی اس حادثے میں موت ہوئی، جبکہ باقی دو دھماکے بھی گذشتہ دس دنوں کے اندر ہوئے ہیں، جس میں 17 سالہ ڈرالین ولیم ہلاک جبکہ اس کی ماں شدید زخمی ہوگئی تھی۔

تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ حملہ آور دھماکہ خیز مواد مکمل طریقے کار کے تحت پارسل گھروں پر نہیں بھیجتے بلکہ حملہ آور رہائشی علاقوں میں گھروں کے باہر رکھ کر چلے جاتے ہیں۔


کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں