The news is by your side.

Advertisement

ٹیکساس اسکول فائرنگ : واقعے میں پولیس کی سنگین غفلت کا انکشاف

ٹیکساس : امريکی رياست ٹيکساس کے اسکول ميں گزشتہ جمعہ کو فائرنگ کے ہونے والے افسوسناک واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، تحقيقاتی رپورٹ میں پوليس کو ذمہ دار قرار ديا گیا ہے۔

اس حوالے سے ٹیکساس کے محکمہ پبلک سیفٹی کے ڈائریکٹر کرنل اسٹیون میک کراؤ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ وقوعہ کے روز اسکول کے بچوں کی جانب سے کم از کم چھ بار پولیس کو مدد کیلئے کال کی گئی۔

غیرملکی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق مسلح پولیس افسران جن کی تعداد تقریباً 20 تھی کلاس میں داخل ہونے اور ملزم کو ہلاک کرنے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل تک جائے وقوعہ کے قریب انتظار کرتے رہے۔

18سالہ ملزم راموس جو اپنی دادی کو گولی مار کر زخمی کرنے کے بعد اپنے گھر سے اسکول چلا گیا تھا، اسٹیون مک کرو کے مطابق ملزم جدید اسلحے کے ساتھ کلاس میں داخل ہوا جس کے بعد چوتھی جماعت کے دو بچوں نے ایمرجنسی کالز کیں۔

پبلک سیفٹی کے ڈائریکٹر نے کہا کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے چیف جائے وقوعہ پر موجود تھے انہوں نے اس وقت یقین دلایا کہ ملزم کو اندر کسی حد تک قابو کرلیا گیا ہے اور بچوں کو فوری طور پر خطرہ نہیں تھا جس سے پولیس کو تیاری کے لیے مزید وقت مل رہا تھا۔

میک کرو نے کہا کہ پولیس کا مسلح نوجوان کا تعاقب کرنے میں تاخیر یقیناً صحیح فیصلہ نہیں تھا، یہ سراسرغلط فیصلہ تھا۔

رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کے گورنر گریگ ایبٹ نے بھی اس سارے واقعے میں پولیس کی سنگین غلطیوں کی نشاندہی کی۔

نیوز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں گمراہ کیا گیا تھا اور جو کچھ ہوا اس کے بارے میں میں نے شدید ناراضگی کا بھی اظہار کیا۔

مزید پڑھیں : گن سیفٹی گروپ کا صدر بائیڈن سے سخت کارروائی کا مطالبہ

خیال رہے کہ امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک ایلیمنٹری اسکول میں ایک 18 سالہ مسلح دہشت گرد نے 24 مئی کلاس رومز میں جا کر فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجے میں کم از کم 19 بچوں سمیت 21 افراد ہلاک ہوگئے۔

بعد ازاں حملہ آور بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں مارا گیا تھا، گورنر گریگ ایبٹ نے بتایا تھا کہ مرنے والے 2 بالغ افراد میں ایک ٹیچر بھی شامل ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں