The news is by your side.

کیا ہاتھوں کی بناوٹ انسانی شخصیت پر اثرانداز ہوتی ہے؟ حیرت انگیز انکشافات

انسانی شخصیت کے بارے میں قیاس آرائی کرنے کے لیے لوگ مختلف طریقے اور انداز اختیار کرتے ہیں لیکن انسانی ہاتھ کسی بھی انسان کی شخصیت کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں اور پامسٹ ہاتھوں کی لکیروں سے کسی بھی شخص کی شخصیت کی گہرائی میں اتر کر اس کے راز افشا کرسکتے ہیں۔

انسانی ہاتھ کسی بھی انسان کی شخصیت کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں اور پامسٹ ہاتھوں کی لکیروں سے کسی بھی شخص کی شخصیت کی گہرائی میں اتر کر اس کے راز افشا کرسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ہاتھوں کی ہتھیلی اور اس کے ساتھ ساتھ انگلیوں کی بناوٹ اور ساخت انسان کی شخصیت کے بار ے میں جاننے میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ہاتھوں کی انگلیوں کی ساخت

انسانی ہاتھ میں چار انگلیاں اور ایک انگوٹھا موجود ہوتا ہے جو کہ الگ الگ ساخت کی حامل ہوتی ہیں اور یہی ساخت ان کی شخصیت پر اثرات کو ظاہر کرتی ہیں۔

اگر کوئی انگلی ٹیڑھی ، مڑی ہوئی ہو ایسی انگلی کو کمزور مانا جاتا ہے جب کہ سیدھی اور مضبوط انگلی کو طاقتور تصور کیا جاتا ہے اسی طرح انگوٹھے کی بناوٹ بھی کمزور اور طاقتور ہو سکتی ہےجبکہ سیدھا اور لمبا انگوٹھا مضبوط انگوٹھا کہلاتا ہے اور یہ انسان کے اپنے پیشے میں کامیابی کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے ۔

پہلی یا شہادت کی انگلی سیدھی اور لمبی ہو تو مضبوط کہلاتی ہے اور یہ انسان کے کردار کی مضبوطی اور مضبوط شخصیت کی علامت ہوتی ہے۔

درمیانی انگلی کی مضبوطی ایک ذمہ دار انسان کی نشانی ہوتی ہے جو خود اعتماد اور عقل مند ہوتا ہے۔ چوتھی یا انگوٹھی والی انگلی کی مضبوطی کا مطلب انسان کا فنون لطیفہ کی جانب رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔

چھوٹی انگلی کی مضبوطی انسان کے معاشرتی رویے کو ظاہر کرتی ہے یہ انگلی جتنی مضبوط ہو گی انسان اپنی سوچ اور طرز فکر کو اتنی ہی آسانی سے دوسروں تک منتقل کر سکے گا۔

انگلیوں کے سروں کی ساخت انگلیوں کی بناوٹ بھی شخصیت پر اثر انداز ہو سکتی ہے

بنیادی طور پر انگلیوں کے آخری کنارے چار مختلف ساخت کے حامل ہو سکتے ہیں، انگلی کا آخری سرا اگر گول ہو تو ایسے فرد امن پسند ہوتے ہیں وہ جھگڑوں سے دور بھاگتے ہیں۔

انگلی کا آخری سرا اگر نوکیلا ہو تو یہ کسی بھی شخص کی روحانیت کی دلیل ہوتی ہے ایسے افراد دنیاوی کاموں سے جلد دور ہو کر روحانی سفر پر نکل پڑتے ہیں۔

انگلی کا آخری سرا اگر چوکور ہو تو ایسے افراد بہت موڈی ہوتے ہیں اور اپنے موڈ کے باعث بڑے سے بڑے فیصلے کر لیتے ہیں ۔

Comments

یہ بھی پڑھیں