The news is by your side.

Advertisement

سانحہ تیزگام: ورثا کا ماں اور بیٹے کی میتیں وصول کرنے سے انکار

کراچی: سانحہ تیزگام میں جاں بحق ہونے والے ماں اور بیٹے کی میتیں سانگھڑ میں ورثا نے وصول کرنے سے انکار کردیا، انتظامیہ نے میتیں مقامی اسپتال کے سرد خانے میں رکھوا دیں۔

تفصیلات کے مطابق تیزگام حادثے میں جاں بحق ہونے والے ماں اور بیٹے کی میتیں ورثا نے وصول کرنے سے انکار کردیا۔ بیٹے نے انتظامیہ کو بتایا کہ اس کی والدہ اور بھائی شورکوٹ میں زندہ ہیں۔ انتظامیہ نے بتایا کہ میتیں ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کے بعد لائی گئیں، انتظامیہ نے میتیں مقامی اسپتال کے سرد خانے میں رکھوا دیں۔

دوسری جانب سانحہ تیز گام میں جاں بحق 29 افراد کی میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں، 26 میتیں میرپورخاص جبکہ 3 کی تدفین عمرکوٹ میں کی جائے گی۔ ڈی سی او میرپور خاص کے مطابق جاں بحق افراد کی نمازجنازہ مختلف مقامات پرادا کی جائے گی، شہدا کی یاد میں آج ضلع بھر میں یوم سوگ ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے 3 افراد کی میتیں سہراب گوٹھ ایدھی سرد خانے منتقل کر دی گئیں، ماں بیٹے سمیت 3 افراد کی میتیں وصول کرنے کے لیے لواحقین موجود ہیں۔

سانحہ تیزگام میں جاں بحق ہونے والا ممتاز حسین مہران ٹاؤن کا رہائشی تھا، حادثے میں جاں بحق ہونے والی ریحانہ اور بیٹا جسٹن گلستان جوہر کے رہائشی تھے۔ گلستان جوہر کی رہائشی فیملی کے مزید 2 افراد تاحال لاپتہ ہیں، فیملی کے ایک فرد ذوالفقار کی میت 2 روز قبل گھرمنتقل کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ لیاقت پور: تیزگام کی 3 بوگیوں میں آگ لگ گئی، 74 افراد جاں بحق

یاد رہے کہ 31 اکتوبر کو کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں پنجاب کے علاقے لیاقت پور کے قریب گیس سلینڈر پھٹنے سے آتشزدگی کے باعث 74 افراد جاں بحق اور متعدد مسافر زخمی ہوگئے تھے۔

تیزگام ایکسپریس کو حادثہ صبح چھ بجکر پندرہ منٹ پر پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور میں چنی گوٹھ کے نزدیک چک نمبر 6 کے تانوری اسٹیشن پر پیش آیا تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں