شادی سے قبل تھلیسیمیا کا ٹیسٹ لازمی قراردینے کا ایکٹ -
The news is by your side.

Advertisement

شادی سے قبل تھلیسیمیا کا ٹیسٹ لازمی قراردینے کا ایکٹ

لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے میں تھلیسیمیا کے مرض کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون سازی کا عمل مکمل کر لیا ہے‘ اس مقصد کے لیے پنجاب تھلیسیمیا پریونشن ایکٹ 2016ءتیا ر کر لیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق صوبے میں شادی سے پہلے تھلیسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے ۔ ایکٹ کے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ افراد تھلیسیمیا کیرئیر ہیں جن میں سے نصف کا تعلق پنجا ب سے ہے اور ہر سال تقریبا6ہزار بچوں میں یہ مریض رونماءہوتا ہے ‘ اس مرض میں بچے 20سال تک زندہ رہتے ہیں ۔

حکومت نے اب تھلیسیمیا کے مرض کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے قانون سازی کا عمل مکمل کر لیا ہے ۔ پنجاب تھلیسیمیا پریونویشن ایکٹ 2016ءتیا ر کر لیا گیا ۔ صوبے میں شادی سے پہلے تھلیسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے اور کسی بھی شادی شدہ جوڑے کی رجسٹریشن تھلیسیمیاکے بغیر نہیں ہو گی ۔

ایکٹ کے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیںجن کے مطابق اگر کسی جوڑے نے بغیر سرٹیفکیٹ کے شادی کی ہے تو ان کو ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا اور اگر کسی نکاح خواں نے بغیرسرٹیفکیٹ والے جوڑے کی شادی کروائی اور اس کو رجسٹرڈ کیا تو اس نکاح خواں کے خلاف 50ہزار روپے جرمانہ یا اس کا لائسنس منسوخ کیا جائے گا او ر دونوں سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں ۔

یہ ایکٹ وزیر اعلی پنجاب سے منظوری کے بعد پنجا ب اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں