The news is by your side.

Advertisement

تھرکول اتھارٹی کرپشن کیس ، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سے ایک ماہ میں جواب طلب

کراچی : سپریم کورٹ نےتھرکول اتھارٹی کرپشن کیس میں وزیراعلی سندھ سےایک ماہ میں جواب طلب کرلیا،جسٹس گلزار آڈٹ رپورٹ پیش نہ کرنے پر سندھ حکومت پر برس پڑے اور کہا ایک سو پانچ ارب روپے خرچ کردیئے لیکن تھر والوں کوایک گلاس صاف پانی کا نہیں ملا، سارے پیسے جیبوں میں گئے اور کرپشن کی نذر ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ رجسٹری میں تھرکول اتھارٹی میں اربوں روپے کرپشن کیس کی سماعت ہوئی ، سماعت میں آڈٹ رپورٹ پیش نہ کرنے جسٹس گلزار نے سندھ حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا وزیر اعلی خود جوابدہ ہیں، ایک سو پانچ ارب روپے خرچ کردیئے مگر تھر والوں کو ایک گلاس صاف پانی نہیں ملا۔

جسٹس گلزار نے ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمےمیں کہا آپ کی حکومت کر کیا رہی ہے؟عوام کو بنیادی سہولت نہیں دے سکی، یہ سارے پیسے جیبوں میں گئے اور کرپشن کی نذر ہوگئے، حکومت کا بنیادی کام عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے۔

جسٹس گلزار کا کہنا تھا آپ لوگ شفاف طریقے سے ترقیاتی کام بھی نہیں کرسکے، اسپیشل انیشیٹیو ڈپارٹمنٹ، تھرکول اتھارٹی، موبائل ایمرجنسی یونٹ کے نام پر اربوں روپےکی کرپشن کی گئی۔

عدالت نے وزیراعلی سندھ سے ایک ماہ میں جواب طلب کرلیا۔

مزید پڑھیں : تھرکول سے بجلی کی پیداوار شروع

خیال رہے 19 مارچ کو تھرکول سے بجلی کی پیداوار شروع ہوگئی، جس کے بعد تین سو تیس میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کردی گئی تھی، پراجیکٹ کی کامیابی پر وزیراعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ آج پاکستان کے لیے بڑا دن ہے، سندھ پاکستان کو توانائی، سلامتی کی راہ پر گامزن کررہا ہے، تھر سے پاکستان کے بدلنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

یاد رہے دسمبر 2018 میں سپریم کورٹ نے تھرکول منصوبہ نیب کو بھجواتے ہوئے ثمرمبارک مند کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا، چیف جسٹس نے کہا تھا ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا تھا بجلی سے ملک کومالا مال کردوں گا، لیکن منصوبے کی جگہ سے لوگ سامان بھی اٹھا کرلے گئے، منصوبے پراربوں روپے لگے ان کا حساب کون دے گا۔

اس سے قبل تھر کول پاور پراجیکٹ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے آڈیٹر جنرل کو فرانزک آڈٹ کا حکم دیتے ہوئے 15 روز میں رپورٹ طلب کی تھی، چیف جسٹس نے کہا تھا کہ کہاں گئے ڈاکٹر ثمر مند مبارک کے دعوے؟ کیا معاملہ ایف آئی اے کو نہ بھیج دیں یا اس کی نئے سرے سے تحقیقات کروائی جائیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں