تھری خواتین نے ہیوی ڈمپر چلانا سیکھ لیاThari women Dump
The news is by your side.

Advertisement

تھری خواتین نے ہیوی ڈمپر چلانا شروع کر دیا

تھرپار کر : تھری خواتین کو اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا سنہری موقع مل گیا، تاریخ میں پہلی بار کوئلے کی ترسیل کیلئے محنت کش تھری خواتین نے ڈمپر چلانے کی تربیت حاصل کرلی اور ٹرک چلانا شروع کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صحرائے تھر میں تاریخی تبدیلی آگئی ، پاکستان میں ٹرک ڈرائیور کا کام عموماً مردوں کو ہی ملتاہے، اسلام کوٹ میں کچھ خواتین بھی ثقافتی زنجیروں کو توڑتے ہوئے ٹرک ڈرائیور بن چکی ہیں۔ تھرپار کر میں خواتین نے غربت سے چھٹکارا پانے کے لئے ٹرک چلانا شروع کردیا ہے اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کررہی ہیں۔

روایتی تھری لباس میں پرجوش گلابن کوتھرکی پہلی ڈمپر ڈرائیور بننے کا اعزاز مل گیا۔

چاربچوں کی ماں گلابن تھر کول پاورپراجیکٹ کے ذریعے غربت کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے جبکہ شوہر نے بھی روایتی زنجیریں توڑنے میں مدد کی۔

صحرا کی کڑی دھوپ پیلے ڈمپر چلانے والی گلابن سمیت تیس خواتین کو ڈمپر چلانے کی تربیت دی جارہی ہے، ، کڑی دھوپ میں ہیوی ڈمپرچلانے والی سخت جاں خواتین کے حوصلے بلند ہیں۔

ٹریننگ کے اختتام پر یہ خواتین روزانہ آٹھ گھنٹے ڈمپر چلائیں گی، تیس خواتین کا انتخاب تھر میں کوئلے کی کانوں میں کھدائی کرنے کے بعد مٹی سے بھرے ڈمپر لے جانے کے لیے کیا گیا ہے۔

انسٹرکٹرمہوش کا کہنا ہے کہ تھری خواتین کو ڈرائیونگ سکھانا میرا خواب تھا۔

تھرکول پراجیکٹ کے ترجمان محسن بابر کا کہنا ہے کہ تھر میں سماجی تبدیلی کے دورکا آغاز ہوگیا، صحرائے تھر کی سخت جان خواتین اپنے مستقبل کو روشن کرنے کے ساتھ پورے ملک میں روشنی پھیلائیں گی۔


مزید پڑھیں : تھر کی تاریخ میں پہلی بار خواتین ڈرائیور


یاد رہے رواں سال جولائی میں اس سلسلے اینگرو کول مائننگ کمپنی تھر کو فیلڈ کی جانب سے 125 خواتین کی درخواستیں وصول ہوئیں جن میں سے ساٹھ خواتین کے انٹرویو کیے گئے جبکہ تیس خواتین کو ڈمپر کی ڈرائیونگ کے لیے سلیکٹ کیا گیا۔

ان خواتین کو پہلے مرحلے میں کار چلانے کی تربیت دی گئی جبکہ آخری مرحلے میں ساٹھ ٹن وزن اٹھانے والے ڈمپر کی ڈرائیونگ کی تربیت دی گئی۔

خیال رہے کہ تھر میں کوئلے کے ذخائر کا شمار دنیا کے 16 بڑے ذخائر میں ہوتا ہے، نو ہزار کلو میٹر پر محیط یہ رقبہ کوئلے کے 175 ارب ٹن ذخائر سے مالامال ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں