The news is by your side.

Advertisement

تھرپارکر: کم عمر لڑکیوں سے شادی کے جرم میں دو دولہا سمیت 8 افراد گرفتار

چودہ سالہ کلثوم کی شادی 24 سالہ محمد جمن لوند اور15سالہ نسیمہ کی شادی 23 سالہ امام الدین کے ساتھ ہورہی تھی

تھرپارکر : پولیس نے شادی کی تقریب میں چھاپہ مار کر کم عمری کی شادی کے جرم میں دو دولہا سمیت آٹھ افراد کو حراست میں لے کر چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ کے انتہائی پسماندہ ضلع تھرپار کے مرکزی شہر مٹھی میں شادی کی تقریب کے دوران پولیس نے کم عمر دو لڑکیوں سے شادی کے جرم میں دونوں دولہا سمیت 8 افراد کو گرفتار کرلیا۔

کالوئی پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او حسین بخش نے بتایا کہ مٹھی میں دو کم عمرلڑکیوں کی شادی کی تقریب جاری تھی جہاں بروقت پہنچ کر دونوں دولہا اور نکاح خواں کو گرفتار کرلیا۔

انہوں نے کہا کہ14سالہ کلثوم کی شادی24سالہ محمد جمن لوند اور15سالہ نسیمہ کی شادی 23 سالہ امام الدین کے ساتھ ہورہی تھی۔ بعد ازاں پولیس دولہنوں کو بھی تفتیش کے لئے تھانے لے آئی۔

ذرائع کے مطابق ایس ایچ او نے بتایا کہ لڑکیوں کے ایک قریبی رشتے دار نیک محمد کی شکایت پر پولیس نے مجموعی طور پر8افراد کے خلاف سندھ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

پولیس کے مطابق دلہن نسیمہ کے والد اور کلثوم کے بھائی کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ ایس ایچ او نے بتایا کہ دونوں لڑکیوں کو چیئرمین یونین کونسل غلام نبی لوند کو اس ضمانت کے ساتھ حوالے کیا کہ وہ دونوں لڑکیوں کو عدالت میں پیش کریں گے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں 21 فیصد لڑکیاں کم عمری کی جبری شادی کا شکار

واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ پاکستان میں21فیصد بچیوں کی کم عمری میں ہی جبری شادی کردی جاتی ہے۔

عالمی ادارے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ ’ڈیمو گرافکس آف چائلڈ میرجز ان پاکستان‘ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں کم عمری کی شادیوں کا رجحان بہت زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال2011سے2020تک دس سال کے عرصے میں کم عمری کی جبری شادیوں کا شکار بچیوں کی تعداد میں کافی حد تک اضافہ ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں