گاندھی کے مجسمے پر فائرنگ کا معاملہ، تین ہندو انتہا پسند گرفتار، کارروائی شروع
The news is by your side.

Advertisement

گاندھی کے مجسمے پر فائرنگ کا معاملہ، خاتون سمیت تین ہندو انتہا پسند گرفتار

نئی دہلی: بھارت کو آزادی دلانے والے مہاتماگاندھی کے مجسمے پر فائرنگ کرنے والی خاتون سمیت تین ہندوانتہا پسندوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کو طویل جدوجہد کے بعد انگریزوں سے آزادی دلوانے والے مہاتما گاندھی کی 70 ویں برسی کے موقع پر ریاست اترپردیش کے شہر علی گڑھ میں انتہا پسند ہندوں نے گاندھی کے قتل کا جشن گذشتہ ماہ 31 جنوری کو منایا تھا۔

اس موقع پر انتہا پسند تنظیم ہندو مہاشبا تحریک کی جنرل سیکریٹری پوجا شاکون نے گاندھی کے مجسمے پر فائرنگ کی اور ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کردیا۔

انتہا پسند تنظیم ہندو مہاشبا تحریک کی جنرل سیکریٹری پوجا شاکون کی گاندھی کے قاتل کو خراج تحسین پیش کرنے کی دو ویڈیو ٹویٹر پر جاری ہوئیں تو سوشل میڈیا صارفین حیران رہ گئے کہ پوجا شاکون اور اس کے ساتھیوں کو بغاوت کرنے پر گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔

مہاتما گاندھی کی برسی، ہندوانتہا پسندوں کا قاتل کو خراج تحسین

بعد ازاں انتظامیہ حرکت میں آئی اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون رکن سمیت 3 ہندو انتہا پسندوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

واضح رہے کہ ہندو رہنما موہن داس کرم چند گاندھی کو شدت پسند ہندو جماعت کے کارکن نتھو رام گوڈسے نے 30جنوری 1948 کو گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں