The news is by your side.

عدالت نے مریم نواز کو پاسپورٹ واپس کرنے کا حکم دے دیا

لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو ان کا پاسپورٹ واپس کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے مدعی کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد انہیں پاسپورٹ واپس کرنے کا حکم دیا۔

عدالت میں مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار اس سے قبل بھی پاسپورٹ واپسی کی درخواست دے چکی ہیں، انہوں نے پہلے عمرے کے لیے پاسپورٹ واپسی کی درخواست دی تھی جو بعد ازاں واپس لے لی تھی  جب کہ اس موقع پر ایڈووکیٹ امجد پرویز نے بروقت عدالت میں پیش نہ ہونے پر عدالت سے غیر مشروط معافی بھی مانگی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا مریم نواز نے پاسپورٹ واپسی کی پہلے بھی درخواست دی تھی؟ جس پر وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ اس سے قبل والد کی تیمار داری کے لیے درخواست دی تھی جس پر نیب سے جواب مانگا گیا تھا۔

عدالت نے کہا کہ اگر ایک درخواست پہلے سے ہی موجود ہے تو دوبارہ درخواست کیوں دی گئی؟

عدالتی استفسار پر مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ یہ درخواست پہلی درخواست سے بالکل مختلف ہے، مریم نواز نے عدالتی حکم پر پاسپورٹ ہائیکورٹ میں جمع کرایا تھا، چار سال  گزر گئے نیب نے ابھی تک چالان جمع نہیں کرایا، چار سال سے بنیادی حق متاثر ہو رہا ہے۔

ایڈووکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ بین الاقوامی طور پر آزادانہ نقل و حرکت کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے اور آئین کسی بھی شہری کو آزادانہ نقل و حرکت کی ضمانت دیتا ہے، قانون کی منشا ہے کہ چودہ دن میں چالان جمع کرایا جائے لیکن پچھلی حکومت ساڑھے تین  تک رہی اور چالان تک جمع نہیں کروایا، مریم نواز کو اس کے والد کے سامنے ایمرجنسی میں گرفتار کیا گیا، میری موکلہ بھی 48 دن تک نیب کی حراست میں رہیں۔

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا کہ کوئی عدالت کسی شخص کو بنیادی حق سے محروم کرنے کیلئے حکم نہیں دے سکتی، عدالت نے میرٹ پر مریم نواز کی ضمانت منظور کی تھی۔

عدالت نے کہا کہ آپ کیا چاہتے ہیں کہ ہم پاسپورٹ جمع کرانے کا حکم کالعدم قرار دے دیں؟

امجد پرویز نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس حکم میں ترمیم کی جائے، مریم نواز سے پاسپورٹ اور 7 کروڑ بطور زر ضمانت بھی رکھا گیا ہے۔

عدالت  نے اس موقع پر سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے اس ضمانت کے حکم کو چیلنج کیا تھا جس پر سرکاری وکیل نے اس معاملے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے سرکاری وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو ریکارڈ دیکھ کر یہ نہیں  بتانا چاہیے تھا؟ کیا  ریکارڈ دیکھنا آپ کا فرض نہیں ہے؟

لاہور ہائیکورٹ نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو علم نہیں کہ یہ کیس نیب کے دائرہ اختیار میں آتا ہے یا نہیں؟

اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یکے بعد دیگرے ترامیم ہوئی جس کے بعد اس کیس کو دیکھا جا رہا ہے، نیب کے نئے قانون کے تحت اس کیس کا جائزہ لے رہے ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ یہ کیس ترمیمی ایکٹ کے تحت آتا ہے یا نہیں۔

نیب پراسیکیورٹر نے کہا کہ ہمیں مریم نواز کے پاسپورٹ کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ان سے مزید تفتیش کرنی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کے وکیل کے دلائل اور نیب پراسیکیوٹر کا موقف سننے کے بعد مریم نواز کو پاسپورٹ واپس کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

واضح رہے کہ عدالت نے مریم نواز کا پاسپورٹ چوہدری شوگر ملز کیس میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں