The news is by your side.

Advertisement

بیوی کو خواجہ سرا قرار دینے سے متعلق عدالت کا فیصلہ آگیا

بیوی کو خواجہ سرا قرار دینے اور میڈیکل کروانے سے متعلق شوہر کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نےخاوند عبدالقیوم کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اس کی بیوی سعید بی بی کے والدین نے دھوکہ دہی سے ایک خواجہ سراءسے شادی کروائی جب میڈیکل کروانے کا کہا تو گھر چھوڑ کر چلی گٸی،عدالت سعید بی بی کا میڈیکل کروا کے جنس کا تعین کرے۔

سعید بی بی کے وکیل کا کہنا تھا کہ گھر سے نکال دیا گیا جب جہیز اور نان نفقہ کا دعوٰی کیا تو تضحیک کرنے کے لیے یہ الزام لگا دیا گیا۔

عدالت نے فیصلہ جاری کرتے ہوٸے قرار دیا کہ فیملی کورٹ جنس کی تعین کی درخواست زیر التوا رکھے اور خاتون کے میڈیکل کی درخواست پر دوبارہ سماعت کی جائے۔

جنس کے تعین کا حکم ناگزیر صورتحال میں ہی جاری کیا جائےجبکہ فیملی عدالت سعید بی بی کو الزامات پر طبی معائنے کیلئے مجبور نہیں کرے گی۔ خاتون کے طبی معائنے سے انکار کی صورت میں فیملی عدالت جیسے مناسب سمجھے حکم دے ۔

عدالتی معاون نے بھی خاتون کےطبی معائنہ کروانے کی درخواست کی مخالفت کی اور کہا کہ خاوند کو پہلے اپنا الزام ثابت کرنا ہو گا، فیملی عدالت خاتون کو طبی معانئے کیلئے مجبور نہیں کر سکتی۔

عدالت نے قرار دیا کہ انسانی حقوق کے قوانین میں پرائیویسی کو بنیادی انسانی حقوق میں شامل کیا جا چکا ہے، اور عدالتیں ناگزیر حالات میں ہی میڈیکل کروانے کے احکامات جاری کریں۔ قانون خواجہ سراﺅں کیساتھ کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک سے روکتا ہے۔

عدالت کے مطابق قانونی تقاضوں کے بعد خواجہ سراﺅں کو جائیداد میں حصہ دینے کا قانون موجود ہے ۔ اس سے قبل فیملی عدالت نے سعید بی بی کا طبی معائنہ کروانے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں