The news is by your side.

Advertisement

بی جے پی سرکار بھارت کے لئے زہرقاتل ثابت ہورہی ہے، دی اکانومسٹ

واشنگٹن : عالمی جریدے دی اکانومسٹ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کی پالیسیاں بھارت میں عدم استحکام کا باعث ہیں، نریندر مودی سیکولر بھارتی آئین کی کھلم کھلاخلاف ورزی کررہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عالمی جریدے دی اکانومسٹ نے اپنی رپورٹ میں بھارتی حکومت کی عدم برداشت کا چہرہ بےنقاب کردیا۔

عالمی جریدے کے تازہ ایڈیشن میں مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، عالمی جریدے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نریندر مودی سب سے بڑی جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے۔

جریدے کے مطابق مودی سرکار کی پالیسیاں بھارت میں عدم استحکام کا باعث ہیں، بی جے پی سرکار بھارت کے لئے زہرقاتل ثابت ہورہی ہے۔

مودی سرکارسیاسی مفاد کیلئےمذہبی تفریق ،تقسیم کا پرچار کررہی ہے، جو سیکولربھارتی آئین کی کھلم کھلاخلاف ورزی ہے، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوتوا کا پرچار کررہی ہے۔

امریکی جریدے دی اکانومسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بھارتی آئین اقلیتوں،زبان،لسانی،گروہی تحفظ کاضامن ہے، مودی آئینی حقوق غصب کرکےآئین کی خلاف ورزی کررہے۔

بی جے پی پالیسیاں بھارت میں بڑی خون ریزی کا باعث بن سکتی ہیں، شہریت قانون کیخلاف بڑے پیمانے پر احتجاج حکومت پرعدم اعتماد ہے، بھارتی شہریوں کی اکثریت مودی سرکارکی نئی پالیسیاں مستردکرچکی ہے۔

دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہر طبقے نے سڑکوں پر آکر مودی سرکار کی پالیسیاں مسترد کردیں، مقبوضہ کشمیرلاک ڈاؤن بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ثبوت ہے، مقبوضہ کشمیر کےعوام مہینوں سےبنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں جاری ایک رپورٹ میں بھی امریکی جریدے دی اکانومسٹ نے کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی گرفتاریاں مظالم، آسام میں ہزاروں مسلمانوں کی بھارتی شہریت ختم کرنا، بھارتی تاریخ میں مسلمانوں کی بدترین نسل کشی ہے، نریندر مودی بھارت کی جمہوریت اور معیشت دونوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں مودی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ بھارت میں کچھ بینک اور دیگر قرض دینے والے ادارے بحران کا شکار ہیں، معیشت نااہل اور برے طریقے سے چلائی جارہی ہے، ایسی صورتحال کے باوجود مغربی ممالک کا اکثر تجارتی طبقہ مودی کی حمایت کررہا ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں