The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں باپ کو اس کا لخت جگر 20 سال بعد مل گیا

ریاض: سعودی عرب میں 20 سال قبل اغوا ہونے والا بیٹا بالاآخر آج اپنے حقیقی باپ سے جاملا، علی الخنیزی نامی باپ خوشی سے پھولے نہیں سمارہا۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں 20 سال قبل اغوا ہونے والے 2 بچے جوان ہوکر منظر عام پرآئے جن میں سے ایک بچے کے والد ہونے کا الخنیزی نے دعویٰ کیا تھا جو اب سچ ثابت ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک بچے کے دعویدار والد نے اپنے ڈی این اے کا سیمپل ٹیسٹ کے لیے متعلقہ ادارے میں جمع کرایا جو بچے کے ڈی این اے سے میچ کرگیا جس کے بعد برسوں سے بچھڑے باپ بیٹے مل گئے۔

والد کا ڈی این اے بیٹے سے میچ ہونے کی رپورٹ پراسیکیوشن جنرل کے ادارے کو پیش کر دی گئی ہے۔

سعودی عرب: 20 سال قبل اغوا ہونے والے بچوں کا معاملہ الجھ گیا

خیال رہے کہ سعودی عرب کے مشرقی ریجن کے علاقے دمام میں ایک خاتون نے دو بچوں کی 20 برس تک پرورش کی۔ جب شناختی کارڈ بنوانے کے لیے دستاویزات طلب کی گئی تو وہ خاتون کے پاس نہیں تھیں جس کے بعد حقیقت سامنے آگئی جبکہ خاتون نے بچوں کی والدہ نہ وانے کا بھی اعتراف کیا۔

گرفتار خاتون کا کہنا تھا کہ انہیں یہ بچے کہیں پڑے ملے تھا تو اس نے اٹھا کر پولیس کے مطلع کیے بغیر ان کی پرورش شروع کردی۔ خیال رہے کہ مذکوہ خاتون کے پاس ایک اور بچہ بھی موجود ہے پولیس نے اس سے متعلق بھی تحقیقات شروع کردی ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ بچہ بھی اغوا شدہ ہوسکتا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں