The news is by your side.

حکمراں اتحاد عوامی مقبولیت کھونے لگا، الیکشن کمیشن کی رپورٹ جاری

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جاری رپورٹ کے مطابق 12 جماعتی حکومتی اتحاد کی مقبولیت کم اور تحریک انصاف کی مقبولیت بلندی پر ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور موجودہ حکومت کے قیام کے بعد سے ملک میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے حوالے سے مفصل رپورٹ جاری کی گئی ہے جس کے اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ 12 جماعتوں پر مشتمل اتحاد اپنی مقبولیت کھونے لگا ہے جب کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت اس کی حکومت کے خاتمے کے بعد مسلسل بڑھی ہے۔

الیکشن کمیشن کی جاری دستاویز کے اعداد وشمار کے مطابق موجودہ حکومت کے قیام کے بعد ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی مجموعی طور پر 36 نشستوں پر انتخابات ہوئے۔ ان میں سے 35 نشستوں پر پی ٹی آئی نے حصہ لیا اور 27 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور اس کی کامیابی کا تناسب 75 فیصد رہا ہے۔

صرف نشستیں ہی نہیں اگر حاصل کردہ ووٹ دیکھیں جائیں تو ان 35 حلقوں میں جہاں پی ٹی آئی نے الیکشن لڑا وہاں اس نے تنہا پرواز کرتے ہوئے مجموعی طور پر 18 لاکھ 59 ہزار 322 ووٹ لیے دوسری جانب 12 جماعتوں کا مشترکہ اتحاد 36 حلقوں میں 15 لاکھ 98 ہزار 391 ووٹ لے سکا۔

اس دوران قومی اسمبلی کی 12 نشستوں پر ضمنی الیکشن ہوئے جن میں سے 11 پر پی ٹی آئی نے حصہ لیا اور 9 نشستیں اپنے نام کیں۔ پی پی نے دو حلقے جیتے جب کہ جس ایک حلقے پر ایم کیو ایم کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی وہاں پی ٹی آئی نے الیکشن ہی نہیں لڑا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جماعت ن لیگ قومی اسمبلی کی ایک بھی نشست حاصل نہ کرسکی۔

 

پنجاب اسمبلی کی 23 اور کے پی اسمبلی کی ایک نشست پر ضمنی الیکشن میں بھی کامیابی نے تحریک انصاف کے قدم چومے اور پنجاب کے 23 حلقوں میں سے 17 پر پی ٹی آئی کے امیدوار کامیاب رہے۔ ن لیگ کے ہاتھ 5 نشستیں آئیں جب کہ ایک پر آزاد امیدوار کامیاب ہوا۔ کے پی کی واحد نشست پر پی ٹی آئی امیدوار نے میدان مارا۔

ان نتائج میں دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ تمام حلقوں میں تنہا پی ٹی آئی کے مدمقابل 12 جماعتوں کے اتحاد نے اپنا ایک ہی مشترکہ امیدوار کھڑا کیا تھا۔ ضمنی الیکشن میں مسلسل ناکامی نے حکمران اتحاد کی نیندیں اڑا دی ہیں اور ان کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں