The news is by your side.

Advertisement

پہلی اقلیتی خاتون افسر کا اعزاز پانے والی بلوچستان کی باہمت بیٹی کی کہانی

کوئٹہ کی رہائشی ماریہ شمعون نے مسابقتی امتحان میں اول پوزیشن حاصل کرکے بلوچستان میں اقلیتی برادری کی پہلی اسسٹنٹ کمشنر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

پاکستان باصلاحیت لوگوں سے مالامال ملک ہے جس کا اعتراف دنیا کرتی ہے بس ضرورت ہے مستقل مزاجی، محنت اور لگن کی اگر یہ سب چیزیں یکجا ہوجائیں تو انسان ہر رکاوٹ عبور کرکے اپنی منزل حاصل کرلیتا ہے جس کی مثال ہے بلوچستان کی یہ باہمت بیٹی

اے آر وائی نیوز کے مطابق کوئٹہ کی رہائشی ماریہ شمعون نے بائیو کیمسٹری میں ماسٹرز میں ٹاپ کیا اس کے بعد دو ہزار سولہ سے مسلسل مسابقتی امتحان میں حصہ لیتی رہی، لیکن کئی بار ناکام ہونے کے باوجود ہمت نہ ہاری جس کا پھل باالآخر دو ہزار اکیس میں مل گیا۔

ماریہ شمعون نے نومبر دو ہزار اکیس میں پی سی ایس کے امتحان میں نہ صرف اول پوزیشن حاصل کی بلکہ بلوچستان میں اقلیتی برادری سے پہلی اسسٹنٹ کمشنر افسر بننے کا اعزاز بھی حاصل کرلیا۔

اس حوالے سے ماریہ نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا یقین تھا کہ میں اپنی منزل ضرور حاصل کروں گی اور مجھے کوئی نہ کوئی ایسا موقع ضرور ملے گا جس میں میں اپنی صلاحیتیں آزما کر خود کو منوا سکوں گی اور پھر ایسا ہی ہوا۔

 

ماریہ نے بتایا کہ جب اسپیشل سی ایس ایس کا اعلان ہوا تو مجھے لگا کہ یہ میرے لیے ہی ہے اس کے بعد پی سی ایس آیا تو میں نے اس کی تیاری شروع کردی، ماریہ کے مطابق اس بات سے قطع نظر کہ میں پاس ہوں گی یا فیل اپنی بھرپور محنت اور تیاری جاری رکھی جس کا صلہ خدا نے مجھے دیا اور میں نے اس مسابقتی امتحان میں ٹاپ کیا۔

ماریہ کا مزید کہنا تھا کہ میرے والدین نے ہمیشہ مجھے سپورٹ کیا میں آج جس مقام پر پہنچی ہوں سب ان ہی کی محنت اور محبت کی بدولت ہے اور میں انہیں اس پر سلوٹ پیش کرتی ہوں، میرے والدین نے کمزور مالی حالات کے باوجود بھی مجھے پڑھایا اور اس جگہ تک پہنچایا ہے جب کہ اس حوالے سے مجھے میری پوری فیملی سمیت چھوٹے بھائی اور دوست ثنا کی بھی رہنمائی حاصل رہی۔

ماریہ نے تمام والدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر والدین اور معاشرہ بچیوں کی حوصلہ افزائی اور مدد کریں تو وہ ہر میدان میں کامیابیاں سمیٹ سکتی ہیں۔

بتیس سالہ ماریہ کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے جس نے پرائمری سے ماسٹرز تک سرکاری اداروں میں تعلیم حاصل کی اس کے والد سرکاری محکمے سے ڈرائیور کے طور پر ریٹائر ہوئے ہیں مگر بچوں کی تعلیم میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور آج بیٹی کی اس کامیابی پر وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔

ماریہ کے والد نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خدا نے میری اس محنت کا اجر دیا اور مجھے سرفراز کیا کہ میری بیٹی اس لائق ہوئی کہ وہ اسسٹنٹ کمشنر بن گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس راستے میں مجھے کافی تکالیف بالخصوص مالی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس موقع پراہلیہ نے بھرپور ساتھ دیا اور ہم نے مل کر ان مشکلات کا مقابلہ کیا جس کا اجر ہم نے آج پالیا ہے۔
منظور احمد

Comments

یہ بھی پڑھیں