The news is by your side.

Advertisement

اقوام متحدہ نے جنسی جرائم پر سزائے موت کی مخالفت کر دی

اقوام متحدہ انسانی حقوق کی سربراہ نے عصمت دری پر سزائے موت کی مخالفت کر دی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سربراہ ہیومن رائٹس مچل بیچلیٹ نے کہا ہے کہ عصمت دری گھناؤنا جرم ضرورہےلیکن سزائے موت حل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان سمیت دنیا میں متعدد کیس رپورٹ ہوئے، متاثرین کو سخت سزا کا لالچ دے کر ہم خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ہوسکتے۔

Pioneering' former Chilean President Michelle Bachelet officially appointed  new UN human rights chief | | UN News

مچل بیچلیٹ نے کہا کہ سزائےموت غریب اور انتہائی پسماندہ افراد کے ساتھ امتیازی سلوک ہے، ہمیں متاثرہ افراد کو انصاف اور ان کی بحالی پر توجہ دینی ہوگی۔

واضح رہے کہ سربراہ انسانی حقوق کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دنیا بھر میں جنسی جرائم میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزائیں دینے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔

پاکستان میں بچوں کو جنسی جرائم سے بچانے کے لیے زینب الرٹ بل منظور کیا گیا ہے جب کہ خواتین کی عصمت دری پر ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کی تجاویز آئی ہیں۔

بنگلادیش کی حکومت نے زیادتی و جنسی جرائم کے بڑھتے واقعات پر حال ہی میں مجرمان کے لیے سزائے موت کا قانون منظور کیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں