The news is by your side.

Advertisement

عالمی ادارہ صحت کا کروناویکسین سے متعلق بڑا بیان

جینیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا ہے کہ کرونا کی مؤثر ترین ویکسین کی تلاش میں ہیں لیکن وبا کی ’تیر بہدف دوا‘ شاید ہمیں کبھی نہ مل سکے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ تمام ترکاوشیں بروئے کار لائی جارہی ہیں لیکن اس کے باوجود خدشہ ہے کہ کرونا کی تیر بہدف ویکسین شاید تیار نہ ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ کرونا کے مؤثر ترین علاج کی دریافت میں ابھی کافی وقت درکار ہے، دنیا کے تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ کرونا کے خلاف اپنی حکمت عملی مزید تیز کریں، حالات ابھی معمول پر آتے نظر نہیں آرہے۔

کرونا کا خاتمہ کب ممکن ہے؟ عالمی ادارہ صحت نے بتادیا

ڈاکٹر ٹیڈروس کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کروناویکسین انسانوں پر تجربات کے تیسرے مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں اور امکان ہے کہ جلد ویکسین تیار ہوجائے گی، جبکہ تمام شہری احتیاطی تدابیر کسی صورت ترک نہ کریں، فیس ماسک کو دنیا میں اتحاد کی علامت بنادیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ میں کئی بار واضح کرچکا ہوں کہ شاید ہمیں کرونا کے ساتھ ہی زندگی گزارنی پڑے گی، کرونا دوسرے وائرس سے بالکل مختلف ہے کیوں کہ یہ خود کو تبدیل کرتا رہتا ہے، موسم تبدیل ہونے سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیوں کہ کرونا موسمی وبا نہیں ہے۔

سربراہ عالمی ادارہ صحت نے مزید کہا کہ اگر کوئی ماں کرونا کا شکار ہوچکی ہے تو اسے بچوں سے دور نہیں کرنا چاہیے، حفاظتی اقدامات کے ساتھ ان سے ملنے دیا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں