The news is by your side.

Advertisement

شامی شہری علاقوں کو تباہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے: سلامتی کونسل

جنیوا: اقوام متحدہ میں انسانی اور امدادی امور کے سکریٹری مارک لوکوک نے کہا ہے کہ شام کے صوبے ادلب میں کم جارحیت والے شہروں میں بعض علاقے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ادلب کی صورت حال کے حوالے سے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران لوکوک نے مزید کہا کہ شہری علاقوں کو تباہ کرنے کا کوئی سبب اور جواز نہیں جیسا کہ ادلب میں دیکھا جا رہا ہے۔

لوکوک نے باور کرایا کہ اقوام متحدہ الرکبان کے علاقے میں رکنے کا فیصلہ کرنے والوں کے لیے انسانی امداد پیش کرے گی، حالات زندگی بہتر ہونے کے حوالے سے نا امیدی کا شکار ہونے والے بہت سے لوگ الرکبان سے کوچ کر گئے ہیں۔

اجلاس میں شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جیر پیڈرسن نے کہا کہ سیاسی حل کے راستے پر گامزن رہنے کے لیے ادلب میں حالات کو پھر سے پرسکون بنایا جانا چاہیے۔

شام میں فضائی بمباری، چار بچوں سمیت 15 شہری ہلاک

پیڈرسن نے بتایا کہ وہ جلد ایران کا دورہ کریں گے اور انہیں امید ہے کہ وہ شامی بحران کے حل کے سلسلے میں ایران کی سپورٹ حاصل کر لیں گے۔ پیڈرسن نے اس امید کا اظہار کیا کہ سیاسی کوششیں ادلب میں دوبارہ سے سکون لانے میں کامیاب رہیں گی۔

سفارت کاروں کے مطابق رواں ہفتے کے دوران سلامتی کونسل کے ارکان کے درمیان ایک قرارداد کے منصوبے پر بحث کا آغاز ہوا۔ کویت، جرمنی اور بیلجیم کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد میں شام کے صوبے ادلب میں فائر بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں