The news is by your side.

Advertisement

تحریک انصاف میں’’مائنس ون‘‘کی کوئی گنجائش نہیں، شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم منحرف ارکان کی ہر جائز بات سننے کو تیار ہیں لیکن تحریک انصاف میں ’’مائنس ون‘‘کی کوئی گنجائش نہیں۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں وفاقی وزرا فواد چوہدری اور اسد عمر کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف میں’’مائنس ون‘‘کی کوئی گنجائش نہیں۔ جہاں تک بات ہے کہ منحرف ارکان کی تو ہم ان کی ہر جائز بات سننے کو بھی تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین ہیں ان کی جگہ کوئی نہیں لےسکتا، منحرف معزز ممبران سے کہتا ہوں کہ اپنے فیصلے پر غورکریں وہ مخالفین کی گود میں بیٹھ مستقبل نہیں سنوار سکتے ہیں،کہ بلے کے نشان پر منتخب ہونیوالوں سے ووٹر کی توقعات ہوں گی، گلےشکوے گھر گھر میں ہوتے ہیں جو دور بھی ہوجاتے ہیں، گلے شکوے ختم ہوجاتے ہیں ان کو ختم کیاجاسکتاہے، بحیثیت دوست منحرف اراکین سے کہتاہوں فیصلے پر نظرثانی کریں۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے کچھ ایم این ایز سندھ ہاؤس میں بھی بیٹھےہیں، منحرف ارکان ٹھنڈے دن سے سوچیں اور تول کر بولیں، سیاسی فیصلہ یہ نہیں ہوگا کہ آپ مینڈیٹ سے ہٹ جائیں، منحرف ارکان نے جماعت سے ہٹ کر فیصلہ کیا تو بڑی سیاسی غلطی ہوگی، منحرف ارکان کو پتہ ہوگا آئین کیا کہتا ہے، پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرکے ٹکٹ لینے والوں پر ڈسپلنری ایکشن لاگوہوتا ہے، اس اپیل کے باوجود کوئی منحرف ہوتاہے تو شوکاز نوٹس دیاجائیگا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کا سندھ میں گورنرراج لگانے کا ارادہ نہ تھا اور نہ ہے، گورنرراج پرسب کی متفقہ رائےتھی فی الحال ضرورت نہیں کیونکہ گورنرراج سے متعلق ماضی کے تجربات ہمارے سامنے ہیں، بلاول بھٹو سعیدغنی پریشان نہ ہوں پی ٹی آئی کا کوئی ایسا ارادہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا ن لیگ بھی مائنس ون پر متفق ہوئی تھی؟ آج شہبازشریف نوازشریف کی جگہ نہیں لےسکتا، میری سیاسی رائے ہے کہ اتحادی ن لیگ پر کبھی بھروسہ نہیں کرینگے کیونکہ جب کابینہ میں ن لیگ وزراکی اکثریت ہوگی تو اتحادی کیسے کام کر سکیں گے، اپوزیشن کو ان تمام صورتحال کو دیکھ کر سوچناضرور چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے 4 سال میں ایم کیوایم کیساتھ جو سلوک ہوا وہ پوشیدہ نہیں، پیپلزپارٹی نے کراچی کے شہریوں کا جو حال کیا،کیاایم کیوایم غافل ہے؟ اتحادیوں کے مزاج اور سوچ کو اچھی طرح سمجھتاہوں، ہمارے اتحادی سیاسی فیصلہ کرتے ہیں، قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ اتحادی چھوڑ گئے یا چھوڑ جائیں گے، میں آج بھی یہی کہہ رہاہوں ہمارے اتحادی ہمیں نہیں چھوڑیں گے۔

وزیر خارجہ بولے کہ ایک طرف افغان صورتحال، دوسری طرف بھارت نے میزائل پر وضاحت نہیں کی، روس یوکرین معاملے پر دنیا میں یورپ میں قیامت ہے، کیا اس ماحول میں ملک عدم استحکام کا متحمل ہوسکتاہے،ملک کی معیشت اوپر جارہی ہے تو کیا یہ عدم استحکام کا بوجھ برداشت کرپائےگی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ پنجابی فلم نہیں پارلیمنٹ آف پاکستان ہے، عدم اعتماد کا مقابلہ کریں گے اور اسے شکست دینگے، ہم جمہوری اور سیاسی طریقے سے عدم اعتماد کو شکست دینگے، راستے میں رکاوٹ بننا پختہ سیاسی سوچ کی نفی اور پروپیگنڈا ہے، تصادم کا ہمارا ارادہ نہیں ہے اور نہ ہوگا، یہ ہمارا طریقہ نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے بلدیاتی بل کا حلیہ پیپلزپارٹی نے بگاڑا، اب سندھ بھی نئی کروٹ لینے کو تیار ہے، سندھ کےسرکاری وسائل استعمال کرکے پیپلز پارٹی والے اسلام آئے کوئی پریشانی ہوئی، چیلنج کس کو دینا ہے بلاول بچہ ہے، آصف زرداری کے وزن کے نیچے پوری پارٹی دب رہی ہے، آصف زرداری اوربلاول بانی چیئرمین ذوالفقاربھٹوکی جگہ نہیں لےسکتے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ سندھ میں گورنر رول کا آپشن ہے مگرفی الحال عمل نہیں کرینگے،27تاریخ کو جلسے کی بھرپور تیاریاں جاری ہیں جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوگا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ 25تاریخ کورانا ثنا اللہ آجائیں ان کو پانی بھی پلائیں گے بلکہ شاہ صاحب نے اتنی شریفانہ پریس کانفرنس کی ہےاب کھانا بھی کھلانا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ سندھ ہاؤس میں قید کئے گئے، انہیں آزاد فیصلوں کا اختیار نہیں، آج ہم نے انکی ووٹنگ کیلئے بحث کی ہے، ہارس ٹریڈنگ کیلئے سپریم کورٹ سے پوچھا جا رہا ہے، شوکاز نوٹس اسپیکر کو چلے جائیں گے، سپریم کورٹ روزانہ سماعت کرے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا یہ بھی کہنا تھا کہ آرٹیکل 63ون اے کےتحت دو الگ الگ چیزیں ہورہی ہیں، قومی اسمبلی کا اجلاس بلانا اسپیکر کی صوابدید ہے، ہمیں قومی اسمبلی اجلاس کیلئے جلدی نہیں اسپیکر کا اختیار ہے۔

وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ عمران خان کے بغیر تحریک انصاف کچھ بھی نہیں ہے، مائنس عمران خان کا مطلب مائنس پی ٹی آئی ہے،

ان کا کہنا تھا کہ منحرف ارکان واپس نہیں آتے تو آئین کےتحت شوکاز نوٹس ہوگا،آئین کی ضرورت ہے کہ پہلے شوکاز نوٹس ایشو کیا جائے، آج شام شوکاز نوٹس جاری  کردیئے جائینگے، یہ واضح لکیر ہے کہ کون پاکستان کیساتھ کھڑا ہوگا اورکون نہیں۔ ان شااللہ عمران خان نے واپس 172کیساتھ آنا، قوم دیکھ رہی ہے،

اسد عمر نے مزید کہا کہ منحرف اراکین کے رشتےداروں نے رابطہ کیا کہ ہم اپنے لوگوں کو سمجھائینگے، ایک سے زیادہ لوگوں نے باہر ہم سے رابطے بھی کئے ہیں، پارٹی کی طرف سے ڈرانے دھمکانے کی کوئی سیاست نہیں ہے، نہ ہی پارٹی نے ایسی کوئی ہدایت کی ہے، جی ڈی اے مکمل طریقےسے پی ٹی آئی کیساتھ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں