منگل, جون 18, 2024
اشتہار

پشاور واقعے سے متعلق کوئی مخصوص تھریٹ الرٹ نہیں تھی، آئی جی کے پی

اشتہار

حیرت انگیز

آئی جی خیبر پختونخوا معظم جان انصاری کا کہنا ہے کہ پشاور واقعے سے متعلق کوئی مخصوص تھریٹ الرٹ نہیں تھی، پچھلے سال دو ہزار 600 سے زائد تھریٹ الرٹ ملے تھے، 600 تھریٹ الرٹ ایسے تھے جو بہت ہی سنجیدہ قسم کے تھے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’سوال یہ ہے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا معظم جان انصاری نے کہا کہ صوبے کی پولیس کے گزشتہ سال 106 جوانوں نے قربانیاں دیں جبکہ 200 زائد دہشتگردوں کا خاتمہ کیا، دہشتگردی کے خلاف جنگ ایک دن میں شروع ہوئی نہ ایک دن میں ختم ہوگی۔

معظم جان انصاری نے کہا کہ پولیس کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت ہے، سوسائٹی میں انتہا پسندی موجود ہے جس میں کوئی شک نہیں، سوسائٹی میں ایسے سسٹم کی ضرورت ہے جس سے استعداد کار بڑھے۔

- Advertisement -

انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں کچھ ایسے نکات ہیں جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے، نیپ میں وہ نکات ایسے ہیں جو پولیس یا اداروں کے کرنے کے نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکول اور مدرسوں کو مین اسٹریم کرنے کی ضرورت ہے، ہمارے پاس الیکشن سے ملتی جلتی سرگرمیاں ہر سال چلتی رہتی ہیں، صوبے میں گزشتہ سال 16 پولیو مہمات چلائی گئی ہیں۔

آئی جی نے کہا کہ پولیس اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے تیار رہتی ہے، الیکشن کی ڈیوٹی بھی دی جاتی ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں، مردم شماری سے متعلق ہم نے اپنی تیاری سے متعلق آگاہ کر دیا۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں