ٹونی بلیئر دوبارہ ریفرنڈم کے ذریعے بریگزٹ کو نقصان پہچانا چاہتے ہیں، تھریسامے کا الزام Brexit
The news is by your side.

Advertisement

ٹونی بلیئر دوبارہ ریفرنڈم کے ذریعے بریگزٹ کو نقصان پہچانا چاہتے ہیں، تھریسامے کا الزام

لندن : تھریسامے نے برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر پر الزام عائد کیا کہ ٹونی بلیئر دوبارہ ریفرنڈم کا مطالبہ کرکے معاہدے کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ آئندہ برس مارچ میں بریگزٹ معاہدے تحت یورپی یونین سے علیحدہ ہوجائے گا، برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کا بریگزٹ پلان یورپی یونین کے رکن ممالک منظور کرچکے ہیں تاہم مذکورہ معاہدے کے مسودے کو برطانوی اراکین پارلیمنٹ کی جانب مزاحمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے کہا کہ ٹونی بلیئر کے ردعمل نے اس آفس کی توہین کی ہے جس میں وہ بحیثیت وزیر اعظم کام کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اراکین پارلیمنٹ بھی بریگزٹ معاہدے پر دوبارہ ریفرنڈم کروا کر اپنی ذمہ داروں سے بری از ذمہ نہیں ہوسکتے۔

سابق برطانوی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اراکین پارلیمنٹ کے پاس دوبارہ ووٹنگ کے علاوہ کوئی دوسرا اختیار نہیں۔

اس سے قبل لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی اراکین پارلیمنٹ نے وزیر برائے کیبنٹ آفس ڈیوڈ لڈنگٹن سے ملاقات کرکے مذکورہ تجویز کی حمایت کی تھی۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی کے 10 اراکین پارلیمنٹ نے ڈیوڈ لڈنگٹن سے جمعرات کے روز ہونے والی ملاقات میں دوسری عوامی ووٹنگ پر زور دیا تھا۔

ایم پیز نے واضح کیا کہ حکومت کے پاس کوئی دوسرا منصوبہ نہیں جس کی حمایت کی جائے لیکن لیبر پارٹی کے کئی سینئر ایم پیز کا خیال دوبارہ ریفرنڈم کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔

حکومت دوبارہ ریفرنڈم کے خلاف ہے، برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ عوام نے سنہ 2016 میں واضح طور پر یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے ووٹ دیا تھا۔

مزید پڑھیں : برطانوی وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور

خیال رہے کہ گذشتہ شب برطانوی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے تحت ہونے والی ووٹنگ میں تھریسامے نے 200 ووٹ حاصل کیے جبکہ مخالفت میں 117 ووٹ پڑے تھے جس کے باعث تحریک ناکام ہوگئی تھی۔

مزید پڑھیں : صبر آزما دن کے اختتام پر خوش ہوں کہ ساتھیوں نے حق میں ووٹ دیا: برطانوی وزیر اعظم

برطانوی وزیراعظم نے جب ووٹنگ ملتوی کرائی تو یہ معاملہ ان کے لیے تباہ کن ثابت ہوا، خود ان کی قدامت پسند جماعت کے ممبران ہی ان کے خلاف ہوگئے تھے۔

تھریسامے کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کے لیے مطلوبہ 48 ارکان کی درخواستیں موصول ہوئی جس کے بعد ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا مطالبہ منظورکرلیا گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں