The news is by your side.

Advertisement

تیسرا ٹی ٹوئنٹی: ورلڈ الیون کو شکست، آزادی کپ پاکستان کے نام

لاہور: آزادی کپ کے تیسرے اور فیصلہ کن ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان نے ورلڈ الیون کو 33 رنز سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور ورلڈ الیون کے مابین لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ میں سرفراز الیون نے مہمان ٹیم کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کی اور مقررہ 20 اوورز میں 183 رنز بنائے، ہدف کے تعاقب میں ورلڈ الیون مقررہ 20 اوورز میں 150 رنز ہی بنا سکی۔

اننگز جھلکیاں

پاکستان کی جانب سے احمد شہزاد نے 89 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی جبکہ بابر اعظم نے 48 اور فخر زمان نے 27 رنز بناکر مجموعی اسکور بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

سرفراز الیون کو اچھی اوپننگ ملی تاہم 61 کے مجموعی اسکور پر فخر زمان رن آؤٹ ہوئے، پاکستان کی دوسری وکٹ 163 پر گری جبکہ تیسری وکٹ 175 اور چوتھی 182 کے مجموعی اسکور پر گری۔ شعیب ملک 17 اور سرفراز احمد بغیر کوئی رن بنائے ناٹ آؤٹ رہے۔

ورلڈ الیون کی جانب سے پریرا دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے نمایاں بالر رہے۔

ہدف کے تعاقب میں ورلڈ الیون نے بیٹنگ کا آغاز کیا تو پندرہ کے مجموعی اسکور پر تمیم اقبال پویلین لوٹے نئے آنے والے بیٹسمین بین 41 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہوئے تاہم ہاشم آملہ بھی 41 کے مجموعی اسکور پر پویلین لوٹے، نئے آنے والے کھلاڑی زیادہ دیر وکٹ پر رُک نہیں سکے اور تھوڑے اسکور بعد آؤٹ ہوکر پویلین روانہ ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے حسن علی 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے نمایاں باؤلر رہے جبکہ عماد وسیم، عثمان خان اور رومان رئیس نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا، ورلڈ الیون کے بلے باز پریرا 13 گیندوں پر 32 رنز بنا کر نمایاں بیٹسمین رہے جبکہ اتنا ہی انفرادی اسکور ڈیوڈ ملر نے بھی کیا۔

میچ دیکھنے کے لیے نامور شخصیات اور کھلاڑی موجود ہیں، شاہد خان آفریدی بھی فائنل میچ دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم پہنچے۔

ورلڈ الیون اننگز

بیسویں اور آخری اوور میں رومان رئیس نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے ورلڈ الیون صرف پانچ رنز ہی بناسکی، اوور اختتام پر مخالف ٹیم کا مجموعی اسکور 8 وکٹوں کے نقصان پر 150 تک پہنچا۔

انیسویں اوور میں 6 رنز کا اضافہ ہوا جس کے بعد مجموعی اسکور 145 تک پہنچا، آخری اوور میں ورلڈ الیون کو جیت کے لیے 39 رنز درکار تھے۔

اٹھارویں اوور میں ورلڈ الیون کو 139 کے مجموعی اسکور پر آٹھویں وکٹ کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، مورنی مورکل رن بنانے کی کوشش میں آؤٹ ہوکر پویلین روانہ ہوئے، اوور اختتام پر مجموعی اسکور 140 تک پہنچا۔

سترہویں اوور میں حسن علی کی بال پر ڈیوڈ ملر آؤٹ ہوئے اس طرح 137 کے مجموعی اسکور پر ورلڈ الیون کو ساتویں وکٹ کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، ڈیوڈ ملر 32 رنز بنا کر پویلین لوٹے،

سولہویں اوور میں ورلڈ الیون کے بلے بازوں نے محتاط انداز میں بیٹنگ کی، اختتام پر مجموعی اسکور 6 وکٹوں کے نقصان پر 128 تک پہنچا۔

پندرہویں اوور میں سات رن اضافے کے بعد ورلڈ الیون کا مجموعی اسکور 119 تک پہنچا۔

چودہویں اوور میں جارحانہ انداز میں بیٹنگ پریرا کو مہنگی پڑی اور وہ رومان رئیس کی گیند پر شارٹ کھیلنے کے چکر میں کیچ آؤٹ ہوئے، بابر اعظم نے شاندار کیچ کر کے پریرا کو پویلین کی راہ دکھائی انہوں نے 13 گیندوں پر تین چھکوں اور 2 چوکوں کی مدد سے 32 رنز بنائے، اوور اختتام پر ورلڈ الیون نے 6 وکٹوں کے نقصان پر 112 رنز اسکور کیے۔

اننگز کا تیرہواں اوور ورلڈ الیون کے لیے اچھا ثابت ہوا، پریرا نے یکے بعد دیگرے تین چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے چوبیس رنز حاصل کیے، اوور اختتام پر ٹیم کا مجموعی اسکور 105 تک پہنچا۔

بارہویں اوور میں 8 رنز اضافے کے بعد مجموعی اسکور 81 تک پہنچا۔

گیارہوں اوور میں مجموعی اسکور پانچ وکٹوں کے نقصان پر 73 تک پہنچا۔

دسویں اوور میں 67 کے مجموعی اسکور پر ورلڈ الیون کی پانچویں وکٹ گری۔

نویں اوور کے اختتام پر مجموعی اسکور 58 تک پہنچا۔

آٹھویں اوور میں عماد وسیم نے جورج بیلی کو کلین بولڈ کر کے پویلین کی راہ دکھائی، اوور اختتام پر ورلڈ الیون کا مجموعی اسکور چار وکٹوں کے نقصان پر 53 تک پہنچا۔

ساتویں اوور میں مجموعی اسکور 50 تک پہنچا۔

رومان رئیس نے اپنا پہلا اور اننگز کا چھٹا اوور کیا جس میں کوئی رن نہ بن سکا۔

پانچویں اوور میں حسن علی نے بین کٹنگ کو کلین بولڈ کیا اور اگلی ہی بال پر ہاشم آملہ رن لینے کی ناکام کوشش میں آؤٹ ہوگئے، یوں 41 کے مجموعی اسکور پر ورلڈ الیون کے تین کھلاڑی پویلین لوٹے، اوور اختتام پر ورلڈ الیون کا مجموعی اسکور 43 تک پہنچا۔

تیسرے اوور میں مجموعی اسکور 23 جبکہ چوتھے اوور میں تین چوکوں کے بعد مجموعی اسکور ایک وکٹ کے نقصان پر 37 تک پہنچا۔

دوسرے اوور میں عثمان شنواری نے تمیم اقبال کو کلین بولڈ کر کے پویلین کی راہ دکھائی اس طرح 15 کے مجموعی اسکور پر ورلڈ الیون کو پہلی وکٹ کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، اوور اختتام پر ورلڈ الیون کا مجموعی اسکور ایک وکٹ کے نقصان پر 15 تک پہنچا۔

ورلڈ الیون کی جانب سے اننگز کا آغاز تمیم اقبال اور ہاشم آملہ نے کیا جبکہ عماد وسیم نے پہلا اوور کروایا، تمیم اقبال نے پہلے ہی اوور میں تین چوکے مار کر 12 رنز حاصل کیے، اوور اختتام پر ورلڈ الیون کا مجموعی اسکور بغیر کسی نقصان کے 13 تک پہنچا۔

پاکستان اننگز

بیسویں اوور کی پہلی بال بابر اعظم کے لیے اچھی ثابت نہ ہوئی اور وہ ففٹی سے دو قدم کے فاصلے پر آؤٹ ہوگئے، انہوں نے 31 بالز پر پانچ چوکوں کی مدد سے 48 رنز اسکور کیے، نئے آنے والے بیٹسمین عماد وسیم بغیر کھاتہ کھولے پویلین لوٹے، اس طرح 182 کے مجموعی اسکور پر پاکستان کو چوتھی وکٹ کا سامنا کرنا پڑا، اوور اختتام پر مجموعی اسکور 183 تک پہنچا۔

بابر اعظم کا ساتھ دینے کے لیے شعیب ملک نے بیٹ تھاما اور کریز پر پہنچے، انیسویں اوور میں ایک چھکے کی مدد سے مجموعی اسکور 175 تک پہنچا۔

اٹھارویں اوور میں احمد شہزاد نے چھکوں کی ہیٹرک مکمل کی تاہم دو بالز کے بعد رن لینے کی ناکام کوشش میں وہ رن آؤٹ ہوکر پویلین لوٹے، اوپنر بلے باز نے 3 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے 55 گیندوں پر 89 رنز اسکور کیے، اوور اختتام پر پاکستان کا مجموعی اسکور 2 وکٹ کے نقصان پر 164 تک پہنچا۔

احمد شہزاد آؤٹ

چار چوکوں کی مدد سے سترہویں اوور میں 17 رنز بنے جس کے بعد مجموعی اسکور 1 وکٹ کے نقصان پر 142 تک پہنچا۔

سولہویں اوور میں مجموعی اسکور ایک وکٹ کے نقصان پر 127 تک پہنچا۔

پندرہویں اوور میں گیارہ رنز کا اضافہ ہوا جس کے ساتھ ہی مجموعی اسکور ایک وکٹ کے نقصان پر 117 تک پہنچا۔

چودہویں اوور میں چھ رنز اضافے کے بعد پاکستانی ٹیم کا مجموعی اسکور ایک وکٹ کے نقصان پر 106 تک پہنچا۔

تیرہویں اوور کی پہلی بال پر احمد شہزاد نے 37 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 6 چوکوں کی مدد سے اپنے کریئر کی ساتویں ففٹی مکمل کی، اسی اوور میں پاکستانی ٹیم نے مجموعی اسکور 100 تک پہنچا، اوور اختتام پر مجموعی اسکور ایک وکٹ کے نقصان پر 101 تک پہنچا۔

بارہویں اوور میں 10 رنز کا اضافہ ہوا جس کے ساتھ ہی مجموعی اسکور ایک وکٹ کے نقصان پر 95 تک پہنچا۔

گیارہویں اوور میں 9 رنز اضافے کے بعد مجموعی اسکور 85 تک پہنچا۔

دسویں اوور میں دونوں بلے بازوں نے محتاط انداز سے بیٹنگ کی اور ایک چوکے کی مدد سے اسکور کو 76 تک پہنچایا۔

نویں اوور کی دوسری بال پر احمد شہزاد نے سیدھا شاٹ کھیلنے کی کوشش کی مگر گیند باؤلر کے ہاتھ سے ٹکرا کر وکٹ پر لگی جس کے باعث فخر زمان آؤٹ ہوئے اور 34 رنز بنا کر پویلین لوٹے، 61 کے مجموعی اسکور پر پاکستان کو پہلے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، احمد شہزاد کا ساتھ دینے کے لیے بابر اعظم کریز پر آئے، اوور اختتام پر پاکستان کا مجموعی اسکور 1 وکٹ کے نقصان پر 66 تک پہنچا۔

آٹھویں اوور میں 6 رنز کا اضافہ ہوا جس کے بعد مجموعی اسکور بغیر کسی نقصان کے 59 تک پہنچا۔

ساتویں اوور میں صرف 2 رنز کا اضافہ ہوا جس کے بعد مجموعی اسکور 53 تک پہنچا۔

چھٹے اوور میں حسن علی نے گیند کو باؤنڈری کے باہر پھینک کر 6 رنز حاصل کیے، اوور میں 13 رنز بننے کے بعد مجموعی اسکور 51 تک پہنچا۔

پانچویں اوور میں صرف چار رنز کا اضافہ ہوا جس کے بعد اسکور 38 تک پہنچا۔

چوتھے اوور میں ایک چوکے کی مدد سے پاکستان کا مجموعی اسکور بغیر کسی نقصان کے 34 تک پہنچا۔

تیسرے اوور میں سرفراز الیون صرف 6 رنز بنانے میں کامیاب رہی جس کے بعد مجموعی اسکور بغیر کسی نقصان کے 28 تک پہنچا۔

دوسرے اوور میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں نے اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور بغیر کسی نقصان کے مجموعی اسکور کو 22 رنز تک پہنچایا۔

سرفراز الیون کی جانب سے بیٹنگ کا آغاز فخر زمان اور احمد شہزاد نے کیا جبکہ ورلڈ الیون کی جانب سے پہلا اوور سیموئل بدری نے کیا، اوورمیں پاکستانی کھلاڑیوں نے دو چوکوں کی مدد سے 12 رنز حاصل کیے۔

دونوں ٹیموں کے کھلاڑی فتح حاصل کرنے کا عزم لیے میدان میں اترے ہیں، فائنل دیکھنے کے لیے عوام کی بڑی تعداد قذافی اسٹیڈیم میں موجود ہے، کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔

ٹاس 

ٹاس کے بعد بات کرتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان  سرفراز نے کہا کہ کوشش کریں گے کہ سابقہ میچ کی غلطیاں نہ دہرائیں، سہیل خان کی جگہ حسن علی کو قومی ٹیم میں شامل کیا ہے، ورلڈ الیون کو اچھا ہدف دینے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بابر اعظم بہت اچھا کھیل رہے ہیں، ان سے توقعات ہیں،سیکیورٹی ایجنسیوں اور پی سی بی کی جانب سے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔

سرفراز نے کیا کہا؟ 


ورلڈ الیون کے کپتان فاف ڈوپلیسی نے کہا کہ کوشش کریں گے کہ جلد ی وکٹیں حاصل کریں،پاکستانی ٹیم کو کم سے کم رنز تک محدود کریں گے،وکٹ بہت اچھی ہے اور ہماری بیٹنگ لائن کافی مضبوط ہے کیوں کہ ٹیم میں پاور ہٹرز کی تعداد زیادہ ہے۔

اسکواڈ

یاد رہے ابتدائی دو میچوں میں دونوں ٹیموں نے ایک ایک سے فتح حاصل کی ہوئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں