The news is by your side.

Advertisement

ٹک ٹاک ویڈیوز نے مودی سرکار کی نیندیں حرام کردیں

نئی دہلی: بھارت میں متنازع شہریت کے قانون کے خلاف بنائی جانے والی ٹک ٹاک ویڈیوز سے بھی مودی سرکار خوف کھانے لگی، حیدرآباد پولیس نے سوشل میڈیا ویب سائٹس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی شہر حیدرآباد پولیس نے میجسٹریٹ کی ہدایت پر سوشل میڈیا ویب سائٹس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، متن میں کہا گیا ہے کہ ٹوئٹر، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک انتظامیہ شہریت کے قانون کے خلاف بنائی جانے والی ویڈیوز اور پیغامات کو نہیں روک رہی۔

حیدرآباد پولیس کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک سمیت مذکورہ سوشل میڈیا سائٹس بھارتی قانون کے خلاف استعمال ہورہے ہیں، جنہیں تاحال نہیں روکا گیا اور نہ ہی انتظامیہ نے کوئی جامع پلان تیار کیا ہے۔

42 سالہ بھارتی مدعی کے مطابق آزادی اظہار رائے کے نام پر بھارت میں تنازعات کو بڑھاوا دیا جارہا ہے، جبکہ شہریت کا قانون مسلسل تنقید کی زد میں ہے، جسے روکنے کے لیے سوشل میڈیا انتظامیہ کوئی خاطر خواہ اقدمات نہیں کررہی۔

مدعی کا کہنا تھا کہ شہریت کے قانون کے خلاف مواد سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے، جبکہ ٹک ٹاک پر بھی باآسانی اس قسم کی ویڈیوز پوسٹ کی جارہی ہیں، جس سے ہماری ساخت کو گہرا دھچکا لگ رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ سوشل میڈیا کے خلاف قانون چارہ جوائی اپنائیں گے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں