The news is by your side.

Advertisement

تکون کی چوتھی جہت – چونکا دینے والا ناولٹ

اگر آپ کی نگاہیں فکشن پڑھنے کے لیے کوئی نئی کتاب ڈھونڈ رہی ہیں تو اقبال خورشید کے دو ناولٹوں پر مشتمل’تکون کی چوتھی جہت‘ مارکیٹ میں آچکی ہے، چونکا دینے والے نام کی طرح مصنف کی شخصیت بھی حیران کردینے والی ہے۔

یہ کتاب صحافی ، ادیب ، کہانی نویس او ر انٹرویو نگار اقبال خورشید کے زور قلم کا نتیجہ ہے ، اقبال معروف ادبی جریدے اجرا کے مدیر بھی ہیں اور اس سے قبل صحافت کی تاریخ پر لکھی جانے والی انتہائی اہم کتاب ’سب سے بڑی جنگ ‘ کے شریک مصنف بھی ہیں( سب سے بڑی جنگ 1977-78 کی صحافتی جدوجہد کی داستان ہے)۔

تکون کی چوتھی جہت نامی یہ کتاب اقبال خورشید کے دو ناولٹوں پر مشتمل ہے، پہلا جو کہ کتاب کا عنوان ہے ، اور دوسرے کا نام گرد کا طوفان ہے۔ یہ کتاب رواں کراچی نے شائع کی ہے ، اس میں صفحات کی کل تعداد 142 ہے او ر اس کی قیمت 400 روپے مقرر کی گئی ہے۔

کتاب کا ٹائٹل شہزاد مسعود نے تشکیل دیا ہے اور کہنا پڑے گا کہ یہ رنگوں ، استعاروں اور علامتوں سے مزین یہ سرورق بذاتِ خود اپنی مثال آپ ہے۔ کتاب مجلد ہے اور معیاری کاغذ پر شائع کی گئی ہے۔

معروف ادیب اور سفرنامہ نگار مستنصر حسین تارڑ نے اس کتاب او ر اس کے مصنف کے بارے میں کہا ہے کہ’’ میں اقبال خورشید کےخاموش قدموں کی آواز سنتا ہوں۔۔۔ وہ آتا ہے۔۔۔۔ ہمیشہ آتا رہے گا۔۔۔۔ اور اس کے قدموں کا زریں مس ہے ، جو میری مسرتوں کو درخشاں بنادیتا ہے۔ اقبال خورشید، اس ناولٹ کے بعد میرے لیے ایک بڑا نام ہے‘‘۔

یہ کتاب کیونکہ دو مختلف ناولٹوں کا مجموعہ ہے تو ہم دونوں کا انفرادی طور پر جائزہ لیں گے ، دونوں کہانیوں میں ایک بات مشترک ہے اور وہ یہ کہ کہانی ہونے کے باوجود یہ ہمارے خمیر میں گندھے ہوئے حالات کا عکس ہیں۔ پاکستان میں رہنے والا ہر شخص محسوس کرے گا کہ یہ اس کے دل کی آواز ہے۔

اقبال خورشید نے اپنی کتاب کا انتساب شہر قائد کے نام کیا ہے اور وہ لکھتے ہیں کہ۔۔۔’’کراچی کے نام جو شاید ایک صبح اپنی راکھ سے پھرجی اٹھے!‘‘۔۔۔۔ بے شک اس ایک جملے میں سمجھنے والوں کے لیے بہت کچھ ہے۔

تکون کی چوتھی جہت

اگر آپ نے مختلف مذاہب کی کتب اردو میں پڑھ رکھی ہیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان کتابوں کا ایک خاص آہنگ ہوتا ہے جو انہیں دوسری کتب سے ممتاز بناتا ہے، دانستہ یا غیر دانستہ طوراقبال خورشید کے اس ناول کی زبان بھی ایسی ہی ہے ، جو پڑھنے والے کو ایک عجیب بے نام سی کیفیت میں گرفتار کردیتی ہے۔

یہ ناول کچھ ایسے کرداروں کی داستان ہے جو اپنی اپنی زندگی کے مدار میں گھوم رہے ہیں اور ان فلکیات کے قوائد کے بالکل برعکس یہ مدار کئی مقامات پر آپس میں ایک دوسرے کو منقطع کرتے ہوئے گزرتے ہیں۔ اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ اصول کے خلاف تو فکشن اسی کا نام ہے ، ورنہ آج تک ہم میں سے کسی نے سالہا سال ریاضی پڑھنے کے باوجود تکون کی چوتھی جہت کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔

چوتھی جہت کا تصور درحقیقت اس بغاوت کی عکاسی ہے جو مصنف اپنے اس ناولٹ میں کررہے ہیں ۔ کہانی کا موضوع کچھ عرصہ قبل تک ہمارے ملک میں از خود ایک ایسی مقدس گائے کاروپ اختیار کرچکا تھا کہ جس کے بارے میں بات کرنے پر سر کے شانوں پر ٹکے رہ جانے کے امکانات کم ہوجاتے تھے۔

اقبال اس ناولٹ میں اپنے کرداروں کو لے کر جب آگے بڑھتے ہیں تو وہ ایک مسلسل ابہام کا پردہ کھینچ کررکھتے ہیں جس سے قار ی کی جستجو میں اضافہ ہوتا ہے کہ آخر پردے کے اس طرف ہے کیا،اور یہی کشش قاری کو کہانی سے جوڑے رکھتی ہے۔

اگر فکشن کی نظر سے دیکھا جائے تو کہانی کا انجام روایتی ہےلیکن جس طرح سےپلات کی بنت کی گئی ہے اس میں یہ انجام چونکا دینے والا ہے بالکل مصنف کی چونکا دینے والی شخصیت کی طرح۔

گرد کا طوفان

کتاب کا دوسرا ناولٹ گرد کا طوفان ہے۔ یہ شہر کراچی کی کہانی ہے ، یا یوں کہیں کہ اس شہر حرماں نصیب کے گزشتہ چالیس سالوں کا مرثیہ ہے۔ کراچی میں رہنے والے قاری اس ناولٹ کے پہلے ہی صفحے سے اس سے منسلک ہوجائیں گے۔ وہ لوگ جو کراچی کو میڈیا کی نظر سے دیکھتے ہیں ان کے لیے یہ کہانی کا ایک الگ ہی رخ بیان کررہا ہے۔

مصنف نے کتاب کے انتساب اسی شہر کے نام کیا ہے ، وہ لکھتے ہیں کہ ۔۔’’کراچی کے نام جو شاید ایک صبح اپنی راکھ سے پھر جی اٹھے!‘‘۔ شاید یہ اسی ناولٹ کے لیے لکھا گیا ہے۔

ناول جہاں سے آغاز ہوتا ہے وہیں پراس کا اختتام بھی ہوتا ہے ، یعنی اس کی کہانی دائرے کی صورت میں آگے بڑھ رہی ہے ۔ نہیں معلوم! شاید مصنف کو جیو میٹری میں بہت زیادہ دلچسپی ہے۔

گرد کا طوفان ، اس ناولٹ میں مصنف آپ کو کراچی کے متوسط اور غریب کے طبقات کے علاقوں میں لے جاتے ہیں ، جہاں اس شہر پر طویل عرصے تک مسلط رہنے والے عفریت کو میسر کمک انتہائی ارزاں قیمت پر دستیاب ہے، یہ کل بھی تھی اورآج بھی ہے۔ آج شہر میں امن ہے ، خدا جانے ! کہ اس شہر میں کبھی ایک لاش گرنے سے دوسری لاش گرنے کے وقفے کو امن کہا جاتا ہے۔

گرد کا طوفان پڑھنے کے بعد ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح اس شہر کو جسے قائد کا شہر کہا جاتا ہے ، روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے ، اس میں رہنے والوں کو کس طرح ہر کسی نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ کیسے یہ شہر ایکا ایکی بند ہوجایا کرتا تھااور موت آہنی زیور پہن کر یہاں رقص کرنا شروع کردیتی تھی۔

الغرض دونوں ہی ناولٹ پڑھنے کی چیز ہیں اور ان کو پڑھنے کےبعد آپ یقیناً مصنف اور ناولٹ کے حق میں ایک اچھی رائے قائم کریں گے۔ ناول آ ن لائن حاصل کرنے کے 03218923722 لیے پررابطہ کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں