The news is by your side.

Advertisement

ٹک ٹاک: بچوں پر نظر کیسے رکھی جائے؟

بیجنگ: دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی مختصر ویڈیو کی ایپلکیشن ٹک ٹاک نے نیا فیچر متعارف کرادیا جس کے بعد والدین کی پریشانی کم ہوجائے گی کیونکہ وہ اپنے بچے کی آئی ڈی پر مکمل نظر سکیں‌گے۔

رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک نے 16 سال سے کم عمر صارفین پر نئی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد وہ جلد ہی ایپ پر براہ راست پیغام بھیج یا وصول نہیں‌ کرسکیں‌گے۔

ٹک ٹاک کے مطابق یہ فیچر (براہ راست میسج پر پابندی) آن لائن حفاظتی اقدامات کے تحت متعارف کرایا جارہا ہے جس کا اطلاق تیس اپریل سے ہوگا۔

یکم مئی سے ٹک ٹاک کے 16 سال سے کم عمر صارفین دیگر دوستوں سے رابطے کے لیے ایپ پر براہ راست فیچر کی سہولت استعمال نہیں کرسکیں گے۔

مزید پڑھیں: ٹک ٹاک نے والدین کی بڑی پریشانی دور کردی

ٹک ٹاک کے سیفٹی ہیڈ کورمک کینن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا اس پابندی کا مقصد موجودہ حفاظتی اقدامات کو ایک قدم مزید آگے بڑھانا ہے، جو صارفین کو ایسے افراد کی طرف سے غیر ضروری پیغامات وصول کرنے سے روکتا ہے، جو اجنبی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ ٹک ٹاک پر حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کے عزم کے تحت ہم نئی پابندیاں متعارف کرا رہے ہیں، جو یہ فیصلہ کریں گی کہ فیچر کو دوسرا کون استعمال کرسکتا ہے، ڈائریکٹ میسجنگ ایک حیرت انگیز ٹول ہے جو لوگوں کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ نئے دوست اور رابطے قائم کریں چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہی کیوں نہ ہوں، لیکن اس کے اچھے مقصد کے باوجود ہم اس کے غلط استعمال کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔’

ٹک ٹاک نے ایپ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے بعد صارفین کی آئی ڈیز کی تصدیق کرنے کے عمل کو بھی تیز کردیا تاکہ نوجوانوں کو کسی بھی غلط صحبت یا آن لائن بدسلوکیوں سے بچایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے دوران نوجوان چلتی ٹرین سے گر گیا

کمپنی نے رواں ماہ فروری میں اعلان کیا تھا کہ ہم نے متعدد حفاظتی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی مدد سے والدین کو اپنے بچوں پر مکمل نظر رکھنے کا موقع ملے گا۔

فیملی سیفٹی فیچر

فیملی سیفٹی فیچر کے تحت بچوں کے اکاؤنٹ کو والدین سے منسلک کردیا جائے گا جس کے بعد ہو کسی بھی وقت آئی ڈی کو کھول کر سب کچھ چیک کرسکتے ہیں اور اسے اپنی مرضی سے کنٹرول بھی کرسکتے ہیں۔

والدین خود کے اکاؤنٹ کو بچے کے آئی ڈی سے کیسے منسلک کریں گے؟

ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ دی ورج کے مطابق کمپنی کی جانب سے کیو آر کوڈ دیا جائے گا جسے اسکین کرنے کے بعد والدین کو آئی ڈی پر مکمل کنٹرول حاصل ہوگا۔ کمپنی نے بچوں کو یہ بھی سہولت دی کہ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی وقت جڑے ہوئے اکاؤنٹ کو ختم کرسکیں گے جس کے بعد اگر ضرورت ہو تو والدین پھر سے اسکین کر کے جڑ سکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں