The news is by your side.

شہباز حکومت کا تمباکو کی صنعت کو ریلیف، لیکن کس کے لیے ؟

اسلام آباد : حکومت نے وزیراطلاعات مریم اورنگزیب کے شوہر کے لیے آسانیاں پیدا کردیں، مبینہ طور پر تمباکو کی صنعت کو ٹیکس، ڈیوٹی پر ریلیف دیتے ہوئے اسے کم کرکے ٹیکس سلیب بھی تبدیل کیے گئے۔

حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ میں مہنگے ترین سگریٹ برانڈ کو بھی سب سے کم ٹیکس سلیب میں جگہ دی گئی ہے، پی ٹی آئی رہنماؤں نے کئی بار اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ تمباکو انڈسٹری کو کس کی وجہ سے ریلیف ملا، ٹیکس اورڈیوٹی کم کرنے کے لیے کیا پینترا بدلا گیا؟

اس حوالے سے ایک رپورٹ کے مطابق بجٹ سے پہلے ہزار سگریٹ 5960 روپے تک میں بنانے والی سگریٹ کمپنیوں پر ایک ہزار چھ سو پچاس روپے ڈیوٹی عائد تھی۔

جو نئے بجٹ میں بڑھا کر ایک ہزار آٹھ سو پچاس ہونا تھی جبکہ ہزار سگریٹ 5960 سے زائد میں بنانے والی کمپنیوں پرڈیوٹی پانچ ہزار دو سو سے بڑھا کر پانچ ہزار نو سو ہوتی۔

لیکن کسی خاص شخصیت کو فائدہ پہنچانے کے لیے حکومت نے راتوں رات پورا پلان ہی بدل ڈالا۔ ٹیکس سلیب چھ ہزار چھ سو ساٹھ پر پہنچادیا گیا، مہنگے ترین سگریٹ برانڈ بھی سستے ترین ٹیکس سلیب میں آ گئے۔

اب جس مہنگے برانڈ کے ہزار سگریٹ چھ ہزار چھ سو ساٹھ سے زائد میں بنیں گے، اُسے پانچ ہزار نو سو ڈیوٹی دینا ہوگی ، یعنی ڈیوٹی بڑھنے کے بجائے مزید سات سو روپے کی بچت کرادی گئی۔

سگریٹ مہنگا کرکے عوام کو اس لت سے بچانے کے بجائے ٹیکس ریلیف دے کر حکومت تمباکو انڈسٹری کی جیبیں گرم کرنے لگی۔

واضح رہے کہ حکومت کے اس اقدام سے رواں سال مزید دولاکھ ساٹھ ہزار افراد تمباکو نوشی کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں، جن میں بچے بھی بڑی تعداد میں شامل ہوں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں