منگول سلطنت کے بانی چنگیزخان کا مقبرہ دریافت -
The news is by your side.

Advertisement

منگول سلطنت کے بانی چنگیزخان کا مقبرہ دریافت

بیجنگ: منگولیا میں دریائے آنون کے نزدیک کام کرنے والے مزدوروں نے منگولوں کے سب سے طاقت ور باد شاہ چنگیز خان کا مقبرہ دریافت کرلیا۔

بیجنگ یونی ورسٹی کی ماہرین آثارقدیمہ کے مطابق دریائے آنون کے نزدیک مزدوروں کو سڑک کی تعمیر کے دوران متعدد ڈھانچے ملے، جن سے اس عہد ساز دریافت کا آغاز ہوا۔

مقبرے سے کل 68 ڈھانچے ملے ہیں جن کے بارے میں کہا جارہا ہےہے کہ یہ مقبرے کی تعمیر کرنے والے مزدوروں کے ہیں جنہیں اس مقام کو خفیہ رکھنے کے لیے زندہ دفن کردیا گیا ہوگا۔

مقبرے سے سونے کے سکوں اور چاندی کی اشیا کے اک ڈھیر کے ساتھ ایک طویل القامت مرد کا ڈھانچہ ملا ہے جس کےبارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ چنگیز خان کا ہے۔

khan-post-1

مقبرے سے 12 گھوڑوں کی باقیات جبکہ 16 عورتوں کے ڈھانچے بھی ملے ہیں جن کے بارے میں یقین کیا جارہا کہ انہیں منگولوں کے اس عظیم رہنما کی حیات بعد از موت میں آسانیاں فراہم کرنے کے لئے اس کے ساتھ دفن کیا گیا تھا۔

ماہرین آثار قدیمہ نے کئی قسم کے ٹیسٹ اور تجزیے کرنے کے بات اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مقبرے سے برآمد ہونے والے طویل القامت شخص کی عمر 60 سے 75 سال کے درمیان تھی، اس کا انتقال1215 سے 1235 کے درمیان ہوا تھا اور وہ چنگیز خان ہے۔

مقبرہ سینکڑوں سال تک دریا کے ساحل کے نیچے رہا تھا یہاں تک کہ دریائے آنون نے اپنا راستہ تبدیل کیا اور مقبرے کی جگہ پانی سے باہرآگئی۔ سینکڑوں سال تک زیر آب رہنے والے اس مقبرے کی حالت انتہائی خستہ ہے۔

khan-post-2

تموجن یعنی لوہے کے نام سے پیدا ہونے والے اس بادشاہ نے اپنی بکھرے ہوئے منگول قبیلوں کو یکجا کرکے بیرونی دنیا پر حملے شروع کیے اوراپنی زندگی میں 31 ملین مربع کلومیٹر سے زائد کا علاقہ قبضہ کیا۔ چنگیز خان کےزیرنگوں چین، سنٹرل ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور مشرقی یورپ کے علاقے تھے اوران کا نام پوری دنیا کے لیے دہشت کی علامت تھا۔

KHAN 3

چنگیز خان نے سنٹرل ایشیا میں قائم خوارزم شاہی اسلامی سلطنت کو تہہ تیغ کرکے رکھ دیا تھا اور اسی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس کے پوتے ہلاکو خان نے مسلم عظمت کے شاہکار بغداد کو راکھ کا ڈھیر بنا کررکھ دیا تھا۔

منگولیا سے اٹھنے والی آندھی بلاشبہ اسلام کے مشرق وسطیٰ اور سنٹرل ایشیا میں زوال کا سبب بنی اور اس کا سہرا منگول سلطنت کے روح رواں چنگیز خان کے سر جاتا ہے جس کی دہشت سے ایشیا ، افریقہ اور یورپ لرزہ براندام تھے اور آج وہ محض ہڈیوں کے ڈھیر کے سوا کچھ بھی نہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں