تازہ ترین

بہاولنگر واقعے کی مشترکہ تحقیقات ہوں گی، آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بہاولنگر...

عیدالفطر پر وفاقی حکومت نے عوام کو خوشخبری سنا دی

اسلام آباد: عیدالفطر کے موقع پر وفاقی حکومت نے...

ایشیائی بینک نے پاکستان میں مہنگائی میں کمی کی پیشگوئی کر دی

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں آئندہ مالی سال...

سنگدل شخص نے بیوی اور 7 بچوں کو قتل کر دیا

پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ میں اجتماعی قتل کا...

درگاہ شاہ نورانی حادثے میں جاں بحق زائرین کی تعداد 18 ہو گئی

عید کی شب درگاہ شاہ نورانی جانے والے ٹرک...

افغان وزارت خارجہ کا بیان حیران کن ہے، ترجمان دفتر خارجہ کا طورخم سرحد کی بندش کے معاملے پر رد عمل

اسلام آباد: طورخم پر پاکستان افغانستان سرحد کی بندش کے معاملے پر ترجمان دفتر خارجہ نے افغان وزارت خارجہ کا بیان حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عبوری افغان حکام طور خم پر عارضی بندش کی وجوہ بہ خوبی جانتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے کہا ہے کہ افغان وزارت خارجہ کا بیان حیران کن ہے، پاکستان اپنی سرزمین کے اندر کسی بھی ڈھانچے کی تعمیر کو قبول نہیں کر سکتا، 6 ستمبر کو افغان فوجیوں نے پرامن حل کی بجائے بلا اشتعال فائرنگ کا سہارا لیا۔

ترجمان نے کہا افغان وزارت خارجہ کے بیان میں کچھ غیر متعلقہ تبصرے اور نامناسب مشورے بھی ہیں، گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں سہولت فراہم کی اور کرتا رہے گا، لیکن پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دے سکتا۔

ترجمان نے کہا 6 ستمبر کو افغان فوجیوں نے پاکستانی فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا اور طور خم بارڈر ٹرمینل کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، افغان فوجیوں نے پاکستانی اور افغان شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا، پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بلا اشتعال فائرنگ کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دفتر خارجہ کے مطابق افغان بارڈر سیکیورٹی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ سے دہشت گرد عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، یہ عناصر افغانستان کے اندر پناہ گاہوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، یو این سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت ٹیم نے بھی تازہ رپورٹ میں اس کی تصدیق کی۔

ترجمان نے کہا پاکستان کی جانب سے ہمیشہ اس خواہش کا اظہار کیا گیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحد دونوں ممالک کے درمیان امن اور دوستی کی سرحد ہو، پاکستان نے کئی دہائیوں سے افغان بھائیوں اور بہنوں کا کھلے دل سے استقبال کیا ہے، سرحد پر تعینات افغان فوجیوں کی بلاجواز اشتعال انگیزیوں کے پیش نظر بھی پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا، اور ہمیشہ بات چیت کو ترجیح دی۔

انھوں نے کہا پاکستان دو طرفہ مسائل اور خدشات کو تعمیری بات چیت کے ذریعے حل کے لیے تیار ہے، تاکہ دونوں ممالک اقتصادی رابطوں اور اس کے نتیجے میں خوش حالی کا فائدہ اٹھا سکیں، ہم توقع کرتے ہیں کہ افغان عبوری حکام پاکستان کے تحفظات کو ذہن میں رکھیں گے، توقع ہے افغان حکام پاکستان کی علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے۔

ترجمان نے کہا ہم اس کو یقینی بنائیں گے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال نہ ہو۔

Comments

- Advertisement -