The news is by your side.

Advertisement

اب فون ہی نہیں لباس بھی ٹچ اسکرین والے ہوں گے، حیرت انگیز ایجاد

برطانوی یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ڈسپلے اسکرین اور ٹچ سینسر والا ایسا حیرت انگیز کپڑا بنایا ہے جو لوگوں کے چلنے سے بجلی بناتا ہے۔

زمانہ انتہائی تیز رفتاری سے ترقی کررہا ہے، جو چیزیں چند سال پہلے انسانوں کے وہم وگمان میں بھی نہ تھیں وہ اب حقیقت کا روپ دھارتی جارہی ہیں۔

انگلستان کی کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بھی ایک بالکل نئی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے ایسا کپڑا بنایا ہے جو ڈسپلے اسکرین اور ٹچ سینسر کی سہولت سے مزین ہے جس کی سب سے خاص بات اس میں درجہ حرارت بدلنے کی صلاحیت اور لوگوں کے چلنے سے بجلی بنانا شامل ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق اس حیرت انگیز کام میں اسمارٹ ٹیکسٹائل میں سینسر بنے گئے ہیں اور ان میں فائبر ایل ای ڈی لگائی گئی ہے جس کے ذریعے پورے کپڑے کو ایک طرح سے ٹچ ڈسپلے میں تبدیل کردیا گیا ہے پہلے مرحلے میں 46 ٹیکسٹائل ڈسپلے تیار کیا گیا ہے اور خاص بات یہ ہے کہ کپڑا سازی کے روایتی طریقے سے بھی اسمارٹ کپڑے کو بنایا جاسکتا ہے۔

اس میں فائبر پر مشتمل ایل ای ڈی روشنیاں لگائی گئی ہیں اس کے علاوہ دیگر پرزہ جات بھی فائبر سے ہی کاڑھے گئے ہیں جن میں ٹچ اور درجہ حرارت نوٹ کرنے والے سینسر کے ساتھ ساتھ اینٹینا اور بایوسینسر بھی شامل ہیں۔ جب کہ توانائی محفوظ کرنے کا نظام بھی ریشے کی صورت میں ڈھالا گیا ہے۔

کپڑے پر مختلف تصاویر اور رنگ نمودار ہوتے ہیں اس میں ٹچ اسکرین کی سہولت بھی موجود ہے اور یہ درجہ حرارت بدلنے اور لوگوں کے چلنے سے بجلی بناتا رہتا ہے۔

فائبر ہونے کی وجہ سے انہیں من پسند کپڑے یا سوئیٹر وغیرہ میں بھی ڈھالا جاسکتا ہے اور لچک دار ہونے کی بنا پر یہ کھنچنے سے خراب بھی نہیں ہوتا اس لیے ڈسپلے اسکرین والا کپڑا طویل عرصے تک کارآمد رہتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ انٹرنیٹ آف تھنگس کی بہترین مثال ہے اور ماہرین کے مطابق اس کا مستقبل بہت روشن ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں